ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں ہی اعتراض کرنے میں مشغول رہتے ہیں مگرکوئی مفید بات یا کام کبھی نہیں کرتے ان کے یہاں چند چیزیں ہیں جن کو مایہ ناز سمجھتے ہیں مگر دین ان میں بھی نہیں ہوتا نہ فہم سے کام لیتے ہیں ایک مرتبہ کا نپور میں میں نے وعظ میں گیارھویں کے متعلق بیان کیا اس میں ایک انسپکڑ پولیس بھی شریک تھے بعد وعظ کے مجھ سے کہا کہ ہماری بڑی مشکل ہے فلاں فلاں عالم تو اس کو جائز کہتے ہیں اور تم اس کو بدعت کہتے ہو ہم کیا کریں میں نے کہا کہ اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے یہ بتلایئے کہ آپ کو تردد رفع کرنا ہے یا اعتراض کرنا مقصود ہے کہا کہ تردد رفع کرنا مقصود ہے میں نے دریافت کیا کہ تردد تو دونوں ہی جانب ہونا چاہئے سوجیسے مجھ سے اس وقت کہا گیا ہے کبھی ان مجوزین ( جائز کہنے والوں ) سے بھی اس طرح کہاہے کہ فلاں فلاں منع کرتے ہیں اور آپ اجازت دیتے ہیں ہم کیا کریں ، بس داروغہ جی ختم ہوگئے ۔
