ایک نو وارد شخص نے تعویذ مانگا اور یہ ظاہر کیا کہ میں فلاں مقام سے سفر کر کے اس ہی غرض سے آیا ہوں فرمایا کہ جو کام ڈھائی آنہ میں ہو سکتا تھا ـ اس کے واسطے اتنا طویل سفر اور اس قدر صرف کرنے کی کون ضرورت تھی ـ آدمی سوچ سمجھ کر تو سفر کرے اور خرچ کرے اب اس کا علاج یہ ہے کہ وطن واپس جا کر تعویذ کے لئے لکھو میں بھیج دوں گا ـ تاکہ اس بے ڈھنگے پن کی حقیقت تو معلوم ہوا اور ہمیشہ کے لئے یاد تو رہے ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس وقت اگر تعویذ تو دیدیا جائے تو لوگ ایسے کوڑ مغز ہیں یوں سمجھیں گے کہ یہ تعلیم کی باتیں تو ویسی ہی تھیں ـ تعویذ تو دے ہی دیا تو میرا مقصود ہے کہ فضولیات کا انسداد ہو وہ حاصل نہ ہوگا ـ اور میں جوان کے اوقات اور قوم بچانے کے انتظام کر رہا ہوں ـ جس وقت یہ اسکو محسوس کریں گے ـ اس وقت قدر ہوگی ـ اس فضولی کی یہاں تک نوبت آ چکی ہے کہ ایک صاحب ضلع گیا سے محض تعویذ اور پانی پڑھوانے کے واسطے آئے تھے ـ میں نے کہا کہ میں یہاں تعویذ نہ دوں گا ـ وطن جا کر منگا لینا اور یہ سب بے فکری اور نعمت کی بے قدری ہے ـ فضول اور بلا ضرورت مال کو برباد کرنے کا نام سخاوت رکھا ہے ـ یہ سخاوت نہیں ـ یہ اسراف ہے ـ
