ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ اتنا بخل محمود ہے کہ جس ہے آدمی انتظار کرسکے اور اپنے دل کو تشویش اور پریشانی سے بچانے کے لیے کچھ پیسے اپنے پاس رکھے بدون اتنے بخل کے انسان منتظم نہیں ہوسکتا اور یہ بخل لغوی ہے شرعی نہیں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی نفس کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ ضرور اپنے پاس رکھے ۔
