ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدوں تھوڑے سے بخل کے انتظام ہو ہی نہیں سکتا اور اس میں مجھ کو چاہے کوئی کچھ ہی کہے مگر حقیقت یہ ہی ہے جو میں عرض کر رہا ہوں بخل مطلقا مذموم نہیں بلکہ کوئی ملکہ بھی برا نہیں مثلا بخل ہے طمع ہے حرص ہے حتی کہ شہوت تک بھی جب تک یہ سب اپنی حد پر ہیں مذموم نہیں فرماتے ہیں :
اے بسا امساک کز انفاق بہ مال حق راجز بامر حق مدہ
( بہت سے بخل سخاوت سے بہتر ہیں ۔ اللہ کے مال کو بغیر حکم الہی خرچ مت کر ۔ 12 )
اور آج کل جس کا نام سخاوت رکھا ہے وہ کھلا اسراف ہے اور یہ لوگ سخی نہیں مسرف ہیں اور اسراف ملکہ نہیں کہ اس میں دو درجے ہوں فعل ہے یعنی معصیت میں خرچ کرنا اس کی محمودیت کا کون دعوی کر سکتا ہے اسی لئے اسراف میں تقسیم نہیں کہ اس کی دو قسمیں ہوں کہ ایک محمود ہے اور ایک مذموم جیسے بخل کی تقسیم ہو سکتی ہے ایک محمود ایک مذموم بخل کے معنی ہیں قلب کی تنگی سو تنگی کی تقسیم ہو سکتی ہے مثلا کسی نے روپیہ جمع کیا اور خرچ اس لئے نہیں کیا کہ اس سے مقصود بیوی بچوں کی راحت ہے آسائش ہے فراغت ہے اس کے محمود ہونے کا دعوی غلط نہیں ہو سکتا ۔ مگر مسرف جب معصیت میں صرف کرے گا تو اس میں کیا مصلحت اور کون سا اچھا مقصود سمجھا جا سکتا ہے نفس نے مکروفریب سے مسرف کو یہ سمجھا رکھا ہے کہ یہ استغناء ہے یہ نفس بری بلا ہے اس کا کچھ اعتبار نہیں اسی کو فرماتے ہیں
نفس اژدہا ست او کے مردہ است از غم بے آلتی افسردہ است
( نفس اژدھا ہے جو مرا نہیں ہے بے سروسامانی کی وجہ سے ٹھٹرا ہوا ہے ۔ )
ہر چیز میں دین کا رنگ ظاہر کر دیتا ہے بلکہ بخل کا جو درجہ برا ہے اسراف اس سے زیادہ برا ہے باقی محمود درجہ میں تو بڑے مصالح ہیں خصوص آج کل تو سخت ضرورت ہے کہ نفس کو بہلانے کے لئے انسان اپنے پاس کچھ ضرور رکھے اس میں بڑی مصلحتیں رہیں بہت ہی نازک وقت ہے ۔ مولوی غوث علی شاہ صاحب بڑے حکیم اور ظریف تھے ان کے سامنے کسی نے دوسرے کو دعا دی کہ ایمان کی سلامتی اور عافیت بخیر ہو ۔ مولوی صاحب نے پوچھا بھائی اس کی حقیقت بھی معلوم ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ آپ ہی فرمائیے اس پر فرمایا کہ ایمان کی سلامتی تو یہ ہے کہ پیٹ بھر کر روٹی مل جائے اور عاقبت بخیر یہ ہے کہ کھل کر پاخانہ ہو جایا کرے پس یہ ہی بڑی نعمت ہے ۔
