ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے پوچھا کہ شریعت میں نیک صحبت کا امر ـ اور بد صحبت سے نہیں آئی ہے ـ پس اگر کوئی برا آدمی کے پاس بیٹھے تو یہ برا آدمی تو بیشک نیک صحبت میں ہوگا ـ اس نے تو اس امر پر عمل کیا مگر وہ نیک اس برے آدمی کے پاس سے اگر نہیں بھاگتا تو نیک نہیں رہ سکتا کیونکہ مخالف ہوا صحبت بد سے نہیں اور اگر بھاگتا ہے تو وہ بد آدمی پھر نیک صحبت سے کیسے فائدہ حاصل کرے ـ حاصل یہ کہ اس طرح تو نیک صحبت کسی طرح میسر نہیں آ سکتی ـ میں نے جواب دیا کہ تجربہ اس کی شہادت دیتا ہے کہ طالب ہمیشہ متاثر ہوتا ہے اور مطلوب موثر یہاں بن کر اس نیک آدمی کے پاس آتا ہے بوجہ طالب ہونے کے وہ متاثر ہوگا ـ بس اس اجتماع سے وہ برا مشفع ہوا اور یہ نیک متضرر نہ ہوا اور اس نہی شرعی کا مقصود یہ ہے کہ تم بد کے طالب یعنی تابع بن کر اس کے پاس مت بیٹھو ـ اب اشکال نہ رہا ـ
