( ملفوظ 428)بزرگی سے پہلے آدمیت مقصود ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عقلی مسئلہ ہے کہ طلب سے پہلے مطلوب کی تعیین کرے اور بزرگی سے مقدم مطلوبیت میں آدمیت ہے ـ یہاں اسی آدمیت کی تعلیم پہلے ہوتی ہے اور بزرگی کی تعلیم بعد میں ـ کسی نے لکھا ہے کہ :
زاہد شدی و شیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی
میں نے اسی آدمیت کی ضرورت پر نظر کر کے اس کو اس طرح بدل دیا ہے ـ
زاہد شدی و شیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی و لیکن انسان نہ شدی
اور اس آدمیت کا حاصل یہ ہے کہ اپنے سے دوسرے کو اذیت نہ پہنچے ـ خصوص مصلح کو اس لئے کہ معلم کے قلب میں ذرا بھی کدورت آئی فورا فیض بند ہو جاتا ہے ـ اس لئے پہلے سلیقہ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کسی کامل کی صحبت کی تو بڑی یہ چیز ہوئی کہ کسی کیصحبت میں رہ کر اپنی اصلاح کرائے خواہ کتنی ہی دیر لگے اب تو حساب لگا کر آتے ہیں کہ جاویں گے مرید ہو جاویں گے ـ شیخ وظیفہ بتلادیں گے وظیفہ لے کر گھر آجاویں گے ـ بس کام ختم ہو گیا یہ سب طریق کے بے خبری ہے اسی بے خبری کو مولانا رومی فرماتے ہیں ـ
بے خبر بودانداز حال دروں استعیذ اللہ مما یفترون
جو علاج بے طریق ہوتا ہے اس کی بالکل یہ حالت ہوتی ہے ـ
گفت ہر دارو کہ ایشان کردہ اند آں عمارت نیست ویران کردہ اند
اصول کی ہر کام میں ضرورت ہے ـ ہر کام قاعدہ اور قانون کا محتاج ہے مگر لوگ قانون سے گھبراتے ہیں ـ وہ کتنا ہی سہل ہو مگر لوگ اس کو سخت سمجھتے ہیں ـ حالانکہ قانون کی سختی وہ ہے کہ وہ قانون اپنی ذات میں سختی ہو لیکن اگر قانون اپنی ذات میں نرم ہو مگر اس کی پابندی سختی سے کرائی جاوے تو وہ سخت نہیں اگر اس کو بھی سخت سمجھا جاوے تو اس کا کیا علاج ـ اس کو کیسے نرم کیا جا سکتا ہے ـ دیکھئے نماز کیسی آسان چیز ہے مگر اس کی تاکید کس قدر سختی سے کی گئی ہے تو کیا اس سے نماز سخت چیز ہوگئی ـ