( ملفوظ 387) بزرگوں کا استغناء اور سلطان شمس الدین التمش کا واقعہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل یہ بھی درویشی کے لوازم سے سمجھا جاتا ہے کہ ہر بات کی برداشت کرے اور ہر شخص کی کرے مگر اصلاح تو اس صورت سے ہو ہی نہیں سکتی البتہ برداشت کی ایک صورت ہے کہ دل میں سے اس بات کو نکال دوں کہ اصلاح نہ کرونگا پھر مجھ پر کوئی اثر نہ ہوگا تغیر تو اصلاح کی وجہ سے ہوتا ہے میں نے ایک بار اسکا بھی قصد کر لیا تھا مگر احباب سے جو مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو اصلاح ہی چاہتے ہیں تو صاحب اصلاح تو اسی طرح ہو سکتی ہے یہانپر تو اسکا مصداق بنکر آنا چاہئے فرماتے ہیں ـ
یا مکن یا پیابا نان دوستی یا بنا کن خانہ برانداز پیل
یا مکش بر چہرہ نیل عاشقی یا فرو شو جامہ تقوی نہ نیل ،
( یا تو ہاتھی والوں سے دوستی نہ کرو ـ یا گھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آ سکے اور یا تو اپنے اند عاشقی کی حالت پیدا نہ کرو یا اس ظاہر تقوی کے جامہ کو دریا میں دھو ڈالو ـ )
اس برداشت اور خوش اخلاق متعارفہ کی بدولت یہاں تک نوبت پہنچ گئی جو مشاہدہ ہے ـ ایک پیر صاحب یہاں پر آئے مجھ سے ایک بڑے شخص کے متعلق کہا کہ تم سفارش کر دو کہ وہ مجھ کو ریاست سے چھ ہزار روپیہ قرض دلوا دیں میں شرما گیا ـ میں نے پوچھا کہ یہ اتنا قرض کس طرح ہوا ـ بہت سادگی سے کہنے لگے کہ مرید کھا گئے ـ لنگر جاری رہا ، آ کر مہینوں پڑے رہے اور کچھ دے کر بھی نہیں گئے میں نے پوچھا کہ پھر یہ قرض جو اس وقت لے رہے ہو کہانسے ادا کرو گے کہا کہ مریدوں سے آمدنی ہوگی اس سے ادا کردونگا دیکھئے یہانتک تو نوبت آ گئی مگر مرید ان کے پھر بھی معتقد تھے ـ یہ سب کچھ اخلاق متعارفہ کی بدولت پریشانی ہوئی ایسے اخلاق قیامت تک بھی اختیار کرنیکو تیار نہیں اور امیروں سے مانگنا تو اچھی خاصی دوکانداری ہے اسکو درویشی سے کیا تعلق درویشونکی تو شان ہی جدا ہوتی ہے کہ خلاف اصول خود دینے سے بھی نہیں لیتے حضرت غوث پاک سے شہ سنجر نے کہلا کر بھیجا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ ملک سنجر کا کچھ حصہ خانقاہ کے لئے حضرت کو پیش کردو آپ نے جواب میں لکھ بھیجا ـ
چوں چتر سنجری رخ بکتم سیاہ باد ، دردل اگر بود ہوس ملک سنجرم
زانگہ کہ یا فتم خبر از ملک نیم شب من ملک نیم روز بیک جونمی خرم
( ملک سنجر کا جھنڈا سیاہ تھا اور شاہ سنجر نے ملک سنجر کا جو حصہ حضرت کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا اوس حصہ کا نام ملک نمیروز تھا ـ اب ترجمہ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں کہ ملک سنجر کے جھنڈے کی طرح میرا نصیبہ بھی سیاہ ہو ـ اگر ملک سنجر کے کسی حصہ کی ہوس میرے دل میں آوے ـ اور میں نے تو جب سے ملک نیم شب ( یعنی راتوں کو عبادت کرنے ) خبر پائی ہے میں ملک نیمروز کو ایک جو کے بدلہ میں بھی خریدنے کو تیار نہیں : ـ ) اسی طرح حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے عجیب بات فرمائی تھی شمس الدین التمش نے چند دیہات کا فرماں لکھ کر ان کی خدمت میں بھیج دیا کہ یہ آپکی خانقاہ والوں کے اخراجات کے لئے تجویز کر دیا گیا ہے اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ افسوس ہم کو تم سے محبت اور ہم سمجھتے تھے کہ تم کو ہم سے محبت ہو گئی مگر ہمارا خیال اگر غلط نکلا اگر تم کو ہم سے محبت ہوتی تو تم ہمارے لئے ایسی چیز تجویز نہ کرتے جو خدا کی مبغوض ہے یعنی دنیا خبر یہ تو درویش تھے مگر اس وقت کے سلاطین کی حالت سنئے قطب صاحب کا انتقال ہوا یہ وصیت فرمائی کہ میرے جنازہ کی نماز وہ شخص پڑھائے جس میں تین شرطیں ئی جائیں ایک تو یہ کہ کبھی کسی غیر محرم پر نظر نہ کی ہو اور ایک عصر کی نماز کے قبل کی مستحب چار رکعتیں اسکی ناغہ نہ ہوئی ہوں تیسری یاد نہیں رہی اس وقت جنازہ پڑھانیکا ارادہ نہ کیا بالاخر سلطان شمس الدین نے کہا کہ آج حضرت قطب الدین صاحب نے مجھ کو رسوا کیا الحمد اللہ اللہ تعالی نے مجھ کو یہ دولت نصیب کی ہے اور نماز پڑھائی یہ اس وقت کے سلاطین کی حالت تھی پھر فرمایا کہ ان بزرگوں کے ذکر کے وقت میری حالت قابو میں نہیں رہتی مجھ کو ان حضرت کیساتھ عشق کا درجہ ہے اور زیادہ عشق کی بناء یہ ہے کہ باوجود غلبہ محبت شرعیہ کا حق ادا کرتے تھے ـ