( ملفوظ 342)بزرگوں کا مالی معاملات میں دخل نہ دینا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت سنی ہے کہ ایک شخص نے بہت بڑی رقم آپ کے سامنے پیش کی آپ نے فرمایا مجھ کو اس وقت حاجت نہیں عرض کیا کہ حضرت کسی مصرف خیر میں صرف فرما دیجئے فرمایا کہ میں کوئی تمہارا نوکر ہوں جو تقسیم کرتا پھروں خود صرف کر دو یہاں سے تقسیم کرنا شروع کرو گھر تک نہ پہنچو گے کہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گی حضرت مولانا قاسم صاحب کو بریلی میں ایک صاحب نے پانچ چھ ہزار روپیہ یا اس سے زائد دینا چاہا ـ حضرت نے انکار فرمادیا اس نے بھی وہی بات کہی کہ کسی مناسب مصرف میں صرف کر دیجئے آپ نے فرمایا مجھ میں اسکی بھی لیاقت نہیں اس نے عرض کیا آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا میں دلیل سے کہتا ہوں وہ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں بخل نہیں اگر مجھ میں لیاقت ہوتی تو مجھ کو دیتے جب تم کو دیا تو تم ہی اسکے اہل ہو خود ہی صرف کرو عرض کیا کہ پھر کوئی مصرف ہی بتلا دیجئے حضرت کو مدارس دینیہ کیساتھ خاص شغف تھا فرمایا کہ اس رقم سے کوئی مدرسہ دینیہ جاری کر دو وہاں ضرورت بھی تھی کوئی ایسا مدرسہ نہ تھا پھر اس واقعہ پر بطور تفریح کے یہ بھی فرمایا کہ حضرت مولویوں کو مالیات میں پڑنا نہ چاہئے اور یہ مال ایسی چیز ہے کہ اسمیں بہت جلد بدنامی ہوجاتی ہے اور بدنام کرنے والے حقیقت پربھی مطلع ہونیکی کوشش نہیں کرتے بد اعتقاد ہوجاتے ہیں دہلی میں ایک متمول صاحب تھے جو میرے صرف اس وجہ سے معتقد ہوئے تھے ایک شخص نے مجھکو دو یا تین روپیہ دینے چاہے میں نے نہیں لئے انکار کر دیا اس لچر بنا پر تو معتقد ہو گئے پھر اعتقاد بھی ایسی ہی لچر بات پر ہو گئے انہوں نے ایک دنیاوی معاملہ میں مجھے سفارش چاہی میں نے نامناسب ہونے کے سبب انکار کر دیا بس اس پر غیر معتقد ہو گئی ان لوگوں کے نہ اعتقاد کا بھروسہ اور نہ بد اعتقاد کا ـ