(ملفوظ 355)بزرگوں کے پاس بیٹھنے کی نیت

ایک صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بزرگوں کے پاس اس نیت سے بیٹھنا چاہے کہ جیسے یہ دیندار ہیں ہم بھی ویسے ہی ہوجائیں گے لیکن اس وقت دیں سے اتنی وحشت ہے کہ نیت توکیا کریں گے اس کے احتمال سے بھی ڈرتے ہیں چنانچہ میں الہ آباد گیا تھا اور وعظ بھی ہوتے مگر انگریزی اسکولوں کے بعض طلباء نے وعظ میں آنے سے اس لئے اجتناب کیا کہ ہم کو تو دنیا حاصل کرنا ہے کہیں وعظ سن کر ہم فلاں صاحب کی طرح نہ ہوجائیں یہ صاحب بالتزام وعظ میں آتے اورمتاثر ہوتے اب وہ ایک اسکول میں ہیڈ ماسڑ ہیں اور یہ ڈرایسا ہے جیسے ایک ڈوم نے یہ سن کرکہ چاند دیکھنے سے روزہ فرض ہوجاتا ہے یہ کہا تھا کہ میں چاند ہی نہ دیکھوں گا جو روزہ فرض ہو چنانچہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا اس نے چاند دیکھا نہ روزہ رکھا اور گھر میں کوٹھے کے اندر گھ س کے بیٹھ گیا شب کو وہی متا ہگا جب دوچار دن گزر گۓ بیوی نے کہا کی یہ تو بڑی مصیبت ہے کہ میں کہاں تک یہ بھینس کا گوبر اوٹھاؤ گی اور گھر سے نکال دیا آخر جنگل میں پہنچا وہاں حاجت کا تقاضا ہوا اس سے فارغ ہو کر آبدست لینے کے لۓ تالاب پر پہنچا تو تلاب میں پانی کے اندر چاند نظر آ گیا کہتا ہے کہ میں تو تجھ کو دیکھتا نہیں تو آنکھوں میں روزہ فرض کرانے کیلۓ کیوں گھسا آتا ہے تو ایسا ہی ان طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم وعظ اس لۓ نہیں سنتے کہ کبھی ہم بھی فلاں صاحب جیسے نہ ہو جائیں اس کی نظیر یہ ہے کہ حکیم کے پاس اس لۓ نہیں جاتے کہ کہیں تندرست نہ ہو جائیں اسی طرح یہ دنیا پرست مولوی لوگوں سے گھبراتے ہیں حالنکہ محقق اہل علم نا جائز نوکریاں تک چھوڑنے کو نہیں فرماتے کہ کہیں افلاس سبب نہ ہو جاۓ کفر کا کیونکہ اب تو معاصی ہی ہیں اور پھر کفر ہو گا پس جو معاصی وقایہ ہو کفر کا اس کو محقق مولوی چھوڑنے کو نہیں کہتے یہ تو نا تجربہ کار کام ہے محقق ایسا نہین کر سکتا یہ تو وہ بات ہو گی کہ چڑھ جا بیٹے سولی پر رام بھلی کرے گا بے علم واعظوں کی بدولت لوگ گڑبڑ میں پڑ گۓ ورنہ محقق کی یہ شان ہوتی ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک زمانہ میں دس روپے کے ملازم تھے حاجی صاحب سے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو نوکری چھوڑ دوں حضرت نے فرمایا کہ مولوی صاحب ابھی تو آپ پوچھ رہے ہیں یہ پوچھنا دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ملازمت چھوڑنا موجب تشویش و پریشانی ہو گا جب پختگی ہو جاۓ گی رسے تڑا کر بھاگو گے غرض محققین کی یہ شان ہوتی ہے تم نے عطائ نسخے استعمال کۓ ہیں اس لۓ فن طب کو بدنام کرتے ہو کسی حازق کا نسخہ استعمال نہیں کیا جس سے حقیقت معلوم ہو جاتی َ۔