ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل فساد اعتقاد کا بہت غلبہ ہے ـ تسبیح چلانے والوں کو سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ان کے قبضہ میں ہے ـ جہاں تعویذ دیا جا یا دم کر دیا بس آرام ہو گیا ـ طبیب کے یہاں سے نسخہ لاکر کبھی نہیں سمجھتے کہ ایک ہی نسخہ پی کر آرام ہو جائے گا ـ وہاں تو کہتے ہیں کہ کوئی کھیل ہے کم از کم تین دن تو پی لیں پھر اطلاع دیں گے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بزرگوں سے حسن اعتقاد کی وجہ سے غالبا ایسا سمجھتے ہوں گے فرمایا کہ یہ حسن اعتقاد نہیں شریعت کے خلاف ہونے سے فساد اعتقاد ہے ـ
