ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ جو یہاں اجازت لیکر آتے ہیں اس اجازت کو اپنے مقاصد مزعومہ کے حصول کا وعدہ سمجھتے ہیں میں نے اسکا یہ علاج کیا ہے کہ آنے کے قبل ہی صاف لکھ دیتا ہوں کہ یہاں آ کر نہ مخاطبت کرو نہ مکاتبت نہ کسی فائدہ کا قصد صرف خالی الذہن ہو کر آزادی کے ساتھ بیٹھے رہو باتیں سنو اور اپنی حالت پر منطبق کرو فائدہ ہو یا نہ ہو تو آجاؤ لوگ ان شرطوں سے برا مانتے ہیں کہ پھر فائدہ ہی کیا ہوا میں کہتا ہوں کہ یہ طریق کا معلوم ہو جانا کیا تھوڑا نفع ہے عمل کر کے تو دیکھیں مولانا فرماتے ہیں ـ
چند گوئی خواجہ نظم و نثر فاش ، چند روزے امتحان کن گنگ باش
میاں نظم نثر کب کہتے رہو گے چند روز کے لئے بطور امتحان کے خاموش ہو جاؤ ـ
اسی طرح بعضے لوگ میرے موخزوں سے برا مانتے ہیں حالانکہ مواخزہ اس لئے ہوتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جو یہاں آوے کچھ لیکے جاوے چاہے ایک ہی علم ہو مگر لوگ اسکو اخلاق کے خلاف سمجھتے ہیں ـ اور حقیقت یہ ہے کہ مشائخ اور علماء کے ان عرفی اخلاق ہی نے عوام کے اخلاق کو خراب اور برباد کیا ہے ایک شخص نے میرے مواخزوں کے متعلق کہا تھا کہ منکر نکیر کے سوالوں کا جواب تو آسان مگر اسکے جواب مشکل ہے میں نے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے مگر اس کا منشا میرا کوئی فعل نہیں بلکہ تمہارا فعل ہے وہ یہ کہ وہاں تو تم سچ بولو گے یا اگر معلوم نہ ہوگا تو لا ادری ( مجھے معلوم نہیں ) کہدو گے یہ بھی غرض جو بات دل میں رچی ہوگئی اور جمی ہوگی وہ کہدو گے اور سچ بولو گے اور یہاں پر اینچ پینچ سے کام نکالنا چاہتے ہو اور چلتی نہیں اس لئے آپ ہی جواب مشکل ہو جاتا ہے تو تم نے ایک آسان چیز کو خود ہی مشکل بنایا اب لیجئے آسانی کی صورت بھی بتلاتا ہوں وہ یہ کہ سچ بولنے کا قصد کر لیں تو بہت سوالوں کی نوبت ہی نہ آئیگی ـ
