ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ ساری خرابیاں اپنے بزرگوں کے مسلک اور طرز کوچھوڑ دینے کی ہیں عاقبت اور خیریت اسی طرزمیں ہے جوہمیشہ اپنے بزرگوں کا رہا ہے یہ نئی نئی باتیں انگریزیت اور نیچریت کی بدولت لوگوں کی گلوگیرہوگئیں اب ان چیزوں کا قلب سے مٹنا آسان نہیں البتہ ایک چیز ہے جوان کا انسداد کرسکتی ہے وہ صحبت ہے کسی کامل کی اور وہی مقصود ہے اور ایک اس کی ہی کیا شکایت کی جائے تمام دین ہی کی حقیقت بدل گئی اسی دین کے لباس میں ہزاروں راہ زن اور ڈاکو بنے پھرتے ہیں ان بدینوں کی بدولت لوگوں کے عقائد تک خراب ہو گئے بدعت اورشرک میں عام مبتلاء ہوگیا اور ذرا قلب میں خدا کا خوف نہیں رہا زیادہ تر گمراہی کا دروازہ ان ہی کی بدولت کھلاہے اورلوگ دوسری طرف متوجہ ہوگئے چنانچہ تحریک گزشتہ می علماء کی شرکت سے عوام پرزیادہ اثرہوا اور لوگ راہ سے بے راہ ہوگئے اور ایسے لوگوں کی حالت زیادہ خطرناک ہے جودوسرون کی گمراہی کا سبب بنیں ۔
11/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
