ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کی ہر بات با برکت ہوتی ہے پانی پت میں ایک بزرگ تھے عادۃ تو وہ صاحب سماع نہیں تھے مگر اس سے پرہیز بھی نہ تھا کسی مجلس میں اتفاق سے شریک ہو گئے ایک بار اتفاق ہی سے ایک مجلس میں شریک تھے قوال یہ کہہ رہا تھا ایسا ٹونا کردے ری ایسا ٹونا کردے یعنی ایسا سحر کردے اسی وقت میں ایک عورت اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی کہ مجھ کو سب ستاتا ہے ناراض رہتا ہے اون بزرگ نے خادم سے کہا کہ یہ ہی لکھ کر دیدو کہ ایسا ٹونہ کردے ری خادم نے یہ ہی لکھ کر اس عورت کو دے دیا خدا کی قدرت سے خاوند مسخر و مطیع ہو گیا ـ
