( ملفوظ 440)بزرگوں کے تبرکات سے متعلق ایک فقہی غلطی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تبیرکات کے متعلق ایک نازک غلطی عام ہے نہ پیروں کو اسکا خیال نہ سجادوں کو وہ یہ کہ جو چیزیں بزرگوں کی ہوتی ہیں انکو تبرکات رکھ لیتے ہیں حالانکہ ان میں ورثہ کا بھی حق ہوتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ شاید وقف کر دیتے ہوں فرمایا اول تو کوئی وقف نہیں کرتا دوسرے اگر کرے بھی تو بوجہ عدم اجتماع شرائط کے وہ وقف جائز بھی نہیں ہوگا پیرزادوں میں علماء بھی ہوئے ہیں مگر کسی کا ذہن اس طرف نہیں گیا اور یہ جواب تو اس پر ہے کہ کوئی وقف کرتا بھی ہو مگر یہاں تو کوئی وقف بھی نہیں کرتا یوں ہی مر جاتے ہیں ـ ہمارے حضرت حاجی صاحب کے بعض ملبوسات میرے پاس تھے جو جائز طریق سے مجھکو ملے تھے مگر دوسروں کو دیدیئے ایک تو اس لئے کہ میرے بعد انکو ذریعہ آمدنی کا نہ بنا دے دوسرے اسی محذور سے بچنے کے لئے جسکا ابھی ذکر ہوا ہے باقی حضرت نے توجہ سے جو دعائیں کی تھیں وہ تبرکات میرے پاس ہیں ـ