(ملفوظ 345)چند واقعات بچپن حضرت حکیم الامت :

فرمایا کہ بچپن میں ایسے ایسے کھیل سوجھتے تھے ایک قصبہ چرتھاول ہے وہاں پربڑی ہمشیرہ کی شادی ہوئی تھی جن کا اسی زمانہ میں انتقال بھی ہوگیا اور تائی صاحبہ بھی وہیں کی تھیں اس وجہ سے سب لوگ مرد وعورت ہم لوگوں سے بہت محبت کرتے تھے ان کا بڑا کنبہ تھا ایک بہت بڑی حویلی ہے جو پخن کا محل کہلاتا تھا اس میں سب رہتے بہت سے بچے اور بہت سی عورتیں تھیں ایک روز سب لڑکوں اور لڑکیوں کے جوتے جمع کرکے ان کو برابر رکھا اور ایک جوتے کو سب کے آگے رکھا وہ گویا کہ امام تھا اور رنگ کھڑے کرکے اس پرکپڑے کی چھت بنائی وہ مسجد قراردی یہ کھیل تھا ایک اور کھیل یا د آٰیا ایک مرتبہ میرٹھ میں ایسا ہوا کہ بارش کے ایام تھے مگر کبھی کبھی ترشح بھی ہوتا تھا باہر صحن میں لیٹا کرتے تھے والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا تھا ہم لوگ والد صاحب کے پاس رہتے تھے تین چار چارپائیاں برابر بچھی ہوئی تھیں والد صاحب کی اور ہم دونوں بھائیوں کی میں نے رسی لےکر سب کے پائے ملا کر خوب کس کرباندھد دیدیئے اور پڑکرسوگئے پھروالد صاحب بھی آکرلیٹ گئے اتفاق سے بارش آئی تو والد صاحب اٹھے اورہم کو بھی اٹھایا بچپن کی نیند تھی ہوں ہوں کرکے پھرسو گئے والد صاحب جھنائے نہیں اٹھتے تو پڑا رہنے دیا اور اپنی چار پائی گھسیٹی اب وہاں تینو چارپائیاں ایک چلی آرہی ہیں بے حد غصہ ہوئے اور فرمایا کہ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں اب سب بھیگ رہے ہیں چاقو تلاش کرکے لائے اور ان رسیوں کو کاٹا تب وہاں سے چارپائیاں اٹھ سکیں صحیح تو یاد نہیں کہ اس حرکت پرکوئی چپت لگایا نہیں ایک اور کھیل یا د آٰیا یہ بھی میرٹھ کا واقعہ ہے دیوالی کے روز شب کے کوجودوکانوں کے سامنے چراغ جلتے رکھدیئے جاتے تھے ہم دونوں بھائی کئی سال تک ایسا کرتے کہ رومال ہاتھ میں لے کر ایک طرف سے بجھاتے ہوئے چلے گئے اور واپسی میں دوسری طرف کے بجھا دیئے مگر کوئی کچھ نہیں کہتا حالانکہ ہماری کوئی حکومت نہ تھی مگر والد صاحب کا لحاظ تھا حتیٰ کہ برا تک نہیں مانتے تھے فرمایا ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کرکے اس کے شامیانہ پرپھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے ایک شخص نے کہا کہ یہ لٹک رہے ہیں مگر کسی نے کچھ نہیں کہا یہ خدا کا فضل تھا باوجودہ ان حرکتوں کے اذیت کسی نے نہیں پہنچائی وہ ہی قصہ رہا جیسا کسی نے کہا ہے :
تم کوآتا ہے پیار غصہ ٭ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
یہ سب اللہ کی طرف سے ہے ورنہ ایسی حرکتوں پرپٹائی ہوا کرتی ہے فرمایا کہ ایک صاحب تھے سیکری کے ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد حاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پررکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیا سے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کرکھانے میں مشغول ہوئے گھرکے سامنے بازار ہے میں نے سڑک پرسے ایک کتے کا پلہ چھوٹا سا پکڑکر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بیچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور کچھ نہیں کہاں جہاں اس قسم کی کوئی بات شوخی کی ہوتی تھی لوگ والد صاحب کا نام لے کر کہتے کہ ان کے لڑکوں کی حرکت معلوم ہوتی ہے مگر کوئی کچھ کہتا نہ تھا اوران شوخیوں پرکبھی والد صاحب کو غصہ آتا تو بھائی کو زیادہ مارتے اورکوئی پوچھتا تو فرماتے کہ سکھلاتا یہ ہی ہے حالانکہ یہ بات واقع کے خلاف ہوتی تھی میں خود بھی ایسی حرکتیں کرتا تھا مگر مشہور یہ ہی تھا کہ یہ سکھلاتا ہے ایک مرتبہ تائی صاحبہ نے والد صاحب سے فرمایا کہ بھائی تم چھوٹے ہی کو کیوں مارتے ہو حالانکہ دنگا دونوں ہی کرتے ہیں فرمایا دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ سبق یاد کرلیتا ہے میرے متعلق فرمایا اس لئے یہ پیارا معلوم ہوتا ہے اور ایک یہ کہ یہ خود نہیں کرتا چھوٹا سکھلاتا ہے فرمایا میں ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب نے آکر میرے سرپر پیشاب کرنا شروع کردیا ایک روزایسا کہ بھائی پیشاب کررہے تھے میں نے ان کے سرپرپیشاب کرنا شروع کردیا اتفاق سے اس وقت والد صاحب تشریف لے آئے فرمایا یہ کیا حرکت ہے میں نے عرض کیا ایک روز انہوں نے میرے سرپر پیشاب کیا تھا بھائی نے اس کا بلکل انکار کردیا مختصرسی پٹائی ہوئی اس لئے کہ میرا دعوٰی ہی دعویٰ رہ گیا تھا ثبوت کچھ نہ تھا اورمیرے فعل کا مشاہدہ تھا غرض جوکسی کو نہ سوجھتی تھی وہ ہم دونوں بھائیوں کو سوجھتی تھی بھائی صاحب بچپن میں مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ہم ایک کرسی پربیٹھے ہوں گے سامنے میز ہوگی اور پکار پکار کرکہتے ہوں گے کہ او فلاں او فلاں نے مراد حکومت تھی اورتم ایک چٹائی پربیٹھے ہوگئے دوچار لڑکے سامنے ہونگے ایک قمچی ہاتھ میں ہوگی مطلب یہ تھا کہ لڑکے پڑھاؤ گے مگر ایسا ہونے کے بعد ان ہراس فرق کا یہ اثر ہواکہ اب ان کو یہ حسرت ہوا کرتی تھی کہ افسوس مجھکو والد صاحب نے علم دین کیون نہیں پڑھایا اور مجھ کو بحمداللہ کبھی یہ حسرت نہیں ہوئی کہ والد صاحب نے مجھ کو علم دنیا کیوں نہیں پڑھایا ۔