ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل چندہ کے بارے میں بہت ہی کم احتیاط ہے حتی کہ قریب قریب تمام مدارس میں بھی اس باب میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا ہے میں اس معاملہ میں سخت ہوں اور زیادہ بے احتیاطی یہ ہے کہ جو فردا فردا چندہ کی تحریک کی جاتی ہے اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے گرانی ہوتی ہے نیز نہ دینے پر بخل بھی ثابت ہوتا ہے جس کا حاصل ایک مسلمان کو متہم کرنا ہے اور یہ کسی طرح جائز نہیں ہیں جو تحریک عام اور تحریک خاص میں امتیاز کرتا ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک مسلمان پر بار نہ ہو گرانی نہ ہو اور بدنام نہ ہو دعوت عام اور چیز ہے اور انفرادی صورت میں کسی سے سوال کرنا اور چیز ہے مجھ کو تجربہ ہے لوگوں کی حالت معلوم ہے اس تحریک خاص کا اثر ظہور بخل قرآن مجید میں بھی مذکور ہے ـ ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ۔ کیونکہ اخفاء والحاف خطاب خاص ہی میں ہو سکتا ہے اور اس کے بعد خطاب عام کا اس عنوان سے ذکر ہے ـ انتم ھؤلاء تدعون لتنفقو فی سبیل اللہ ۔ یہ دعوت خطاب عام ہے اور اسی فرق کی وجہ سے اخفاء پر جو بخل ہو اس میں نکیر نہیں فرمایا گیا کہ معزور ہے اور دعوت پر جو بخل ہو اس پر نکیر فرماگیا ـ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ الایۃ ۔ میں نے میرٹھ کے ایک وعظ میں اس فرق کو بیان کیا تھا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب بھی اس بیان میں شریک تھے وعظ کے بعد خوش ہو کر فرمایا کہ آج آیت کے معنی معلوم ہوئے یہ ان کی تواضع و محبت تھی مولانا خلیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ میرے متعلق فرمایا کہ میں اس کو اس وقت سے جانتا ہوں کہ یہ مجھ کو نہ جانتا تھا مجھ سے بڑی محبت فرماتے اور حضرت صاحب میرے پاس ہے ہی کیا بس یہ ہی ایک چیز ہے یعنی اللہ والوں کی محبت مولانا نہایت سادہ تھے کوئی بناوٹ نہ تھی ـ
