ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ چشتیوں کے اندر نہایت مسکنت غربت انکساری اور شکستگی ہے ـ مگر ان ہی میں جو اللہ کا نام لینے والے ہیں باقی جو صرف گانے بجانے کودنے ناچنے ہی کو اصل شغل سمھتے ہیں وہ چشتی ہی نہیں پھر شکستگی پر ایک حکایت بیان فرمائی کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ایک طالب علم نے دعوت کی ـ اپ نے فرمایا کہ ایک شرط سے منظور ہے کہ خود کچھ مت پکانا بلکہ گھروں پر جو تمہاری روٹیاں مقرر ہیں ـ وہی ہم کو بھی کھلا دینا اس کو اس نے منظور کر لیا یہ ہے شان مسکنت اور غربت اور انکساری اور عاجزی کی کہ اتنا بڑا شخص اور اس طرح اپنے کو مٹائے ہوئے تھا ـ
