( ملفوظ 120 ) چشتیہ کا متبع سنت ہونا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عموما یہ خیال ہو گیا ہے ( صوفیہ کو عموما اور حضرات چشتیہ کو خصوصا بدنام کیا جاتا ہے ) کہ یہ بدعتی ہیں اور سنت کے مخالف ہیں اس کے متعلق مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ ایک رسالہ لکھا جائے اور ان حضرات کے اقوال و اعمال جمع کئے جائیں جن سے معلوم ہو کہ وہ کس قدر اتباع سنت کا کرتے تھے اس کا نام یہ ذہن میں آیا ہے ـ السنۃ الجلیۃ فی الچشتیہ العلیہ ۔ ( چناچہ اب بفضلہ تعالی شائع بھی ہو گیا ) ان حضرات اقوال و اعمال سے ایہام ہو جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات پر اس طرف کا غلبہ تھا صاحب حال تھے اس لئے معزور ہیں ایک ہی چیز دل میں سمائی ہوئی اور رچی ہوئی تھی اور سب سے ذھول تھا اور وہ چیز محبت اور یاد حق ہے اور حقیقت میں یہی ایک چیز یاد رکھنے کی ہے اس کو نہ بھلاوے باقی اور کسی چیز کے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ـ میری اس نصرت پر ایک صاحب معتر ضانہ لکھتے ہیں کہ تم صوفیوں کی بہت حمایت کرتے ہو مگر الحمد للہ میں بیجا حمایت تھوڑا ہی کرتا ہوں اور میں بھی تو جواب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تم صوفیہ کی مخالفت کرتے ہو بلکہ میں نے تو بہت سے خیالات کی اصلاح کر دی ہے چناچہ آجکل لوگوں میں عموما پیر کا بڑا مرتبہ سمجھا جارہا تھا حتٰی کہ باپ اور استاد سے بھی بڑا مگر میرے یہاں تحقیق ہے کہ اول مرتبہ باپ کا پھر استاد کا پھر پیر کا اس پر کہتے ہیں کہ تم صوفیوں کی حمایت کرتے ہو ـ