ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب میں سفر کیا کرتا تھا باہرجاکر یہاں کی قدرمعلوم ہوتی تھی اب تو سفرہی نہیں کرتا ایک کونہ میں پڑا ہوا ہوں اور وہ قدر کی بات یہ ہے کہ یہاں کے رہنے ولے لوگ اپنے کو چھوٹا سمجھتے ہیں لیکن اگرواقع میں چھوٹے ہی ہوں تب بھی چھوٹوں کی صحبت کی بھی تو ضرورت ہے اور امت محمدیہ میں تومن کل الوجوہ نہ کوئی چھوٹا نہ کوئی بڑا اللہ کا شکر ہے کہ میں بھی اپنے کواپنے دوستوں سے مستغنٰی نہیں سمجھتا بلکہ محتاج سمجھتا ہوں اور کچھ نہ سہی دعاء وبرکت صحبت ہی میں سہی ہرشخص کو اپنے بھائی مسلمان سے اپنے کو مستغنٰی نہیں سمجھنا چاہے اسی میں عافیت ہے کونوا مع الصدقین ارشاد ہے صادقین کی معیت حق تعالٰٰی نصیب فرمائیں اور اللہ شرور سے اپنی حفاظت میں رکھیں ۔
