ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصل میں بدعتی لوگوں کو عناد ہے اہل حق سے اس عناد کےسبب ان کی عبارات سے بعید بعید لزوم ثابت کرتے ہیں کہ یہ لازم آتا ہے وہ لازم آتا ہے صریح عبارات میں تحریفات کرکے اس پر کفرکو چسپاں کرتے ہیں مولوی ابراہیم صاحب دہلوی نے اس کی مثال میں خوب کہا اکثر واعظ ظریف ہوتے ہی ہیں کہ ان کا لزوم ایساہے جیسے ایک شخص یک چشم تھا ایک شخص یک چشم تھا ایک شخص سے راہ میں ملا اور کہا کہ توحرام زادہ تیرا باپ حرام زادہ اس نے کہا کہ میاں یہ کیا واہیات ہے راہ چلتے گالیاں دیتے ہو میں نے آخرتم کو کہا کیا تھا کہنے لگا کہ یہ مشہور ہےکہ کانا حرام زادہ توتم نے جب مجھ کو دیکھا ہوگا ضرور دل میں کہا ہوگا کہ کانا حرام زادہ تومیں نےاسکا جواب دیاکہ تو حرام زادہ تیرباپ حرام زادہ اب ایسے لزوم کا کسی کے پاس کیا علاج ۔
