(ملفوظ 68 )دارالعلوم دیوبند کےبڑے جلسہ میں حسب واقعہ وعظ دینا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ اہل باطل ہمیشہ اہل حق پر اعتراض ہی کرنے میں مشغول رہتے ہیں ان کو کبھی کوئی کام کی بات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور حدود کا تو ان لوگوں میں مطلق خیال ہی نہیں بدوں تحقیق جوجی چاہا اور جس کی نسبت چاہا کہہ دیا یہ قلب میں دین نہ ہونے کی دلیل ہے الحمدللہ اپنے حضرات کی برکت کی وجہ سے ہم لوگوں کو حدود کا اس قدر خیال رہتا ہے کہ جب دیوبند میں بڑا جلسہ ہواتھا اس میں مجھ سے حضرت مولانا دیوبندی رحمہ اللہ نے فرمایا تھاکہ اس جلسہ میں حضورﷺ کے فضائل بیان کرنا مناسب ہے یہ حضرت مولانا کا فرمانا اس خیال سے تھا کہ بڑا مجمع ہے ہرقسم کے عقائد کے لوگ اطراف سے آئے ہوئے ہیں جن میں بعضے وہ بھی ہیں کہ ہم لوگوں کےمتعلق یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ ان کے دل میں حضوراقدس ﷺ کی عظمت نہیں نعوذ بااللہ توایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے فضائل سن کر یہ سمجھ جائیں گے کہ حضورﷺ کے متعلق ان کے یہ خیالات ہیں میں نے عرض کیا کہ ایسے بیان میں روایات کے یاد ہونے کی ضرورت ہے اور روایات مجھ کو محفوظ نہیں میری روایات پر نظربہت کم ہے فرمایا کہ اگر یاد آجائے بیان کردینا یہ حضرت کامشورہ تھا اور نیک مشورہ تھا مگر اپنا اپنا مذاق ہے مجھ کو اس کا بیان اس نیت سے کرتے ہوئے شرم معلوم ہوئی کہ اپنے منہ سے ہم یوں کہیں کہ ہم محب رسول ہیں اور ایسے ہیں ویسے ہیں دوسرے یہ وعظ تو اپنی مصلحت تبریہ کے لیے ہوامخاطبین کی مصلحت سے نہ ہوا اس لئے میں حب دنیا کا بیان کیا جس کا آج کل عام مرض ہے اور لوگوں میں سب خرابیاں حب دنیا کے سبب ہیں ۔
6/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ