ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ دین میں تنگی نہیں اگرتنگی ہوتی تو حضور یہ نہ فرماتے الدین یسر (دین آسان ہے ) اور جوآدمی اس میں تنگی سمجھتاہویہ اس کی نظر کا قصور ہے میں اس کی ایک مثال بیان کرتاہوں جیسے ایک سڑک ہے سیدھی جس میں کہیں ٹیڑھا پن نہیں اورچوڑی بھی اس قدر ہے کہ اس میں چارپانچ موٹر برابرچل سکتے ہیں اور سڑک پردورویہ درخت کھڑے ہیں اور یہ مسئلہ ہے علم مناظر کا اور مشاہدہ بھی ہے کہ نگاہ دور پہنچ کراس قدر سمٹ جاتی ہے کہ درخت باہم ملے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں اب جو شخص حقیقت سے ناواقف ہے وہ آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرسکتا اس کو وہم ہے کہ آگے سڑک بند ہے مگر جو حقیقت سے باخبرہے واقف ہے اس سے کہے گا کہ تو چلنا شروع کرہمت نہ ہار جہاں تک کھلاہوا نظرآرہاہے وہاں تک چل آگے پھرراستہ کھلاہو نظر آویگا اسی کو مولانا رومی فرماتے ہیں
گرچہ رخنہ نیست عالم را پدید خیرہ یوسف ؑ دارمی باید دوید
(اگرچہ عالم میں کوئی راستہ نظر نہیں آتا مگر یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہئے )
جب تک تم نے چلنا شروع نہیں کیا اسی وقت تک تم کودین کے راستہ میں تنگی اور دشواری نظرآتی ہے ذرا چلنا توشروع کرو بخود راستہ کھلتا نظر آئے گا جو تمہارے لئے مشکل ہے جب راستہ میں قدیم رکھوگے سب آسان نظر آوے گا ذرا تو ہمت سے کام لو اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تومگومارا بداں شہ بارنیست باکریماں کارہا دشوار نیست
( تویہ مت کہہ کہ اس شاہ تک ہماری رسائی نہیں ہے کیونکہ کریموں کے لئے کوئی کام دشوار نہیں ہے )
اورکسی نے خوب کہا ہے
مرد بادید کہ ہراساں نشود مشکلے نیست کہ آساں نشود
(مرد کوچاہے کہ گھبراوے نہیں کوئی مشکل ایسی نہیں جوآسان نہ ہوجائے ۔ (ہمت شرط ہے ))
اوراسی دشواری کے توہم کے متعلق مولانا فرماتے ہیں
اے خلیل یہاں شعلے اور دھواں نہیں ہے یہ سب نمرود کا دھوکہ اور جادو ہے ۔ 12)
اوریہ دشواریاں اورتنگی سب خیالی ہیں حقیقی نہیں اور اگر بالفرض واقعی بھی ہوں تو خلوص اور طلب وہ چیز ہے کہ دشواریوں کو ھباء منثورا کردیتی ہیں دیکھئیے ! جب زلیخا حضرت سیدنا یوسف ؑکوبہانے سے محل کے اندر لے گئی تواس محل کے آگے پیچھے سات دروازے تھے اور ہرایک دروازہ پر ایک ایک مضبوط قفل لگاتھا جب یہ اطمیناہوگیا کہ ساتوں دروازے نہایت مضبوطی سے بندہوچکے تب اپنی خواہش کا اظہار کیا اب ظاہرا سیدنا یوسف علیہ السلام اگربھاگنا بھی چاہیں تو کہا ں جاسکتے ہیں اس حالت میں اگر ان کوحق تعالیٰ پرکامل بھروسہ اور توکل نہ ہوتا اور ہماری جیسی ان کی بھی ہمت ہوتی تو وہاں سے خلاصی کی کیا صورت ہوسکتی تھی مگر شان نبوت کا اقتضاء یہ اعتقاد فرماکرسیدنا یوسف علیہ السلام دروازہ کی طرف دوڑے آپ کادوڑنا تھا اورقفلوں کا خودبخود ٹوٹ ٹوٹ کردروازہ کھل جاتا تھا اسی طرح ساتوں دروازوں سے باہر ہوگئے اسی کو مولانا رومی ؒ فرماتے ہیں
گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید خیرہ یوسف دارمی باید ددید
دراصل بات یہ ہے کہ جوتنگی ہم کو دین میں نظرآتی ہے وہ تنگی خود ہمارے اندر ہے دین کی مثال بلکل آئینہ جیسی ہے کہ ہماری ہی صورت اس کے اندر نظرآتی ہے جیسے ایک حبشی سفر کررہا تھا راستہ پرایک شیشہ پرڑا ہوا نظر آیا اس کو اٹھاکر اپنی صورت جواس میں دیکھی توکالی صورت موٹے موٹے ہونٹ بے ڈھنگی ناک نظرآئی اس نے کبھی آئینہ نہ دیکھا تھا یہ سمجھا کہ اس کے اندر کوئی دوسراشخص ہے شیشہ کو دور مارا اور کہا کہ اگر ایسا بدصورت توجناب ہی کی صورت تھی مگر الزام شیشہ پراسی طرح تنگی تواپنے اندر اور الزام دین پرجیسے ایک عورت بچے کو پاخانہ پھرا کر اور کپڑے سے پونچھ کرعید کا چاند دیکھنے لگی عورتوں کو عادت ہوتی ہے اکثر ناک پرانگلی رکھ کربات کرتی ہیں چاند دیکھتے وقت ناک پر بھی اتفاق سے انگلی رکھی تھی اوراس کا پاخانہ لگارہ گیا تھا تو کہتی ہےکہ اے ہے ابکے چاند سڑا ہوا کیوں ہے بھلابتایئے چاند اور بدبو وہ بدبو تو اپنے میں تھی مگر الزام چاندپر ۔
