ایک صاحب نے ایک شبہ پیش کرنا چاہا حضرت والا نے فرمایا کہ شبھات کا ازالہ محض قیل و قال سے نہیں ہوا کرتا کام کرنے سے اکثر شبھات کا خود بخود سد باب ہو جاتا ہے پہلے کام میں کوشش کرو اور اصلاح کا ارادہ کرو پھر کوئی شبہ ہو پیش کرو کام کرنے سے قبل سوچ سوچ کر باتیں کرنا محض وقت کو بیکار کھونا ہے مجھکو حضرت استادی مولانا محمد یعقوب صاحب کا جواب بے حد پسند آیا دوران درس میں ایک طالب علم نے ایک حدیث پر شبہ کیا تھا اس کا جواب مولانا نے دیا تھا وہ حدیث یہ ہے کہ جو اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ : لا یحدث فیھما نفسہ ۔ یعنی ان رکعات میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے یعنی حدیث النفس کے طریق پر جیسے ہم لوگ ادھر ادھر کی باتیں سوچا کرتے ہیں اس سے وہ نماز بھی بالکل خالی بے سوچے اگر وساوس آویں کوئی حرج نہیں خود نہ سوچے حاصل یہ ہے کہ خطرات احداث اور بقاء دونوں اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ایک طالب علم نے عرض کیا کہ حضرت کیا ایسی نماز ممکن ہے جس میں خیالات یا وساوس نہ آویں اول تو طالب علم نے سوال ہی غلط کیا حدیث تو یہ ہے لا یحدث فیھما نفسہ نہ کہ لا تتحدث فیھما نفسہ مگر مولانا نے اس سے تعرض نہیں فرمایا بلکہ عجیب ہی جواب دیا وہ دیا یہ کہ میاں کبھی ایسی نماز پڑھنے کا تم نے ارادہ بھی کیا تھا جس میں نا کامیابی رہی ہو کبھی پڑھ کر بھی دیکھی تھی اگر پڑھ کر دیکھتے اور ناکامی رہتی تب پوچھتے بھی اچھے معلوم ہوتے کبھی ارادہ کیا نہیں پہلے ہی حدیث پر شبہ کر بیٹھے شرم نہیں آت عمل کر کے دیکھا ہوتا اس پر بھی ناکامی رہتی تب ہی اعتراض کیا ہوتا ہے ـ یہ ہے جواب اور میں ایک طریق پر کہتا ہوں کہ حکومت کے قانون میں کبھی وسوسہ نہیں ہوتا اس لئے کہ وہاں ہیبت ہے اسی طرح محبوب کی باتوں میں کبھی وسوسہ نہیں ہوتا اس لئے کہ وہاں محبت ہے بس وسوسہ کا تختہ مشق صرف دین ہی کو بنایا جاتا ہے کیونکہ وہان نہ ہیبت ہے نہ محبت ہے بس یہ دو چیزیں پیدا کرلو یہی دو چیزیں ہیں وساوس کے روکنے والی غرض جو عملی کام ہیں ان پر اگر شبہ ہو وہ عمل کرنے سے زائل ہو سکتا ہے نرمی علمی تحقیقات سے کام نہیں چل سکتا بس اسکا ایک ہی علاج ہے کہ حق سبحانہ تعالی سے ہیبت یا محبت پیدا کرو اور ہیبت و محبت کے پیدا کرنیکا سہل طریقہ یہ ہے کہ اہل خشیت و اہل محبت کی صحبت اختیار کرو پھر نرمی صحبت سے بھی کچھ نہیں ہوتا بلکہ اپنے کو اس کو اس کے سپرد کر دو ـ اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فراماتے ہیں ـ
قال را بگزار مرد حال شو پیش مردے کا ملے پامال شو
( قیل و قال کو چھوڑ کر اپنے اندر حال پیدا کرو اور کسی مرد کامل کے آگے اپنے کو فنا کر دو )
