(ملفوظ 163)دیہاتیوں کی ذہانت :

ایک صاحب نے موروثی کے متعلق کچھ ذکر کیا حضرت والا نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میرے اساتذہ میں ایک بزرگ تھے ملا محمود صاحب ان کے ایک بھائی تحصیلداررتھے اور تھے مرتشی ( رشوت لینے والے ) مگران کی بدلی نہیں ہوئی تھی ، ایک گنوار دیہاتی بیڑا اٹھا کر چلا میں بدلی کراکرآؤں گا کلکڑیورپین تھا اس کے پاس یہ گنوار دیہاتی بنگلے پر پہنچا وہ ٹہل رہا تھا جاکر سلام کیا کلکڑ نے دریافت کیا کہ چودھری کیسے آئے کہا کہ تجھ سے ایک بات پوچھوں ہوں یہ بتلا کہ موروثی کسے کہیں ہیں کلکڑ نے جواب دیا کہ بارہ سال زمیں جس کے قبضہ میں رہے اس میں حق موروثی ہوجاتا ہے پھر اس کے قبضہ سے کوئی نہیں نکلوا سکتا کہا کہ میں بھی تیرے پاس اسی واسطے سے آیا ہوں یہ جو تحصیلدار ہے اس کو تحصیل میں گیارہ سال تو ہوگئے اگرایک سال اور تحصیل میں رہ گیا توپھر نہ تیرے باپو سے جا اورنہ میرے باپو سے جا کلکڑ سمجھ گیا اور بعد تحقیق واقعات فورا حکم تبادلہ کا بھیج دیا ان دیہاتیوں کی ذہانت بڑے غضب کی ہوتی ہے انکے دماغ نہایت صحیح ہوتے ہیں ان کے پاس الفاظ تو ہوتے نہیں اس لئے کہ علم نہیں ہوتا مگر ترجمانی غضب کی کرتے ہیں ۔