ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل کا تقدس اور تقوٰٰی طہارت اورزہد بی بی تمیزہ کاسا وضو ہے جونہ جنابت سے ٹوٹتا تھا اورنہ دل بول براز سے مہینوں ایک ہی وضو سے نماز پڑھی اور درمیان میں سب کچھ ہوتا رہا ایسا ہی آج کل کا تقویٰ ہے کہ ایک بار اس رجسٹری ہوجائے پھرکوئی چیز اس میں مخل نہیں ہوتی پھر لطف یہ ہے کہ اگراس بے احتیاطی کا اثر دوسروں تک پہنچے اور کوئی خیرخواہ ان سے کہے کہ حضرت یہ لوگ آپ کے معتقد ہیں آپ کے فعل سے استدلال کرتے ہیں گمراہ ہوتے ہیں آپ کواحتیاط مناسب ہے تواس پر جواب ملتا ہے کہ آپ ذاتیات پرحملہ کرتے ہیں حالانکہ وہ ذاتیات نہیں ہوتے اور اگر بالفرض ذاتیات بھی ہوں تب بھی حیرت ہے کہ تم تو آیات بینات اور دینیات پر حملہ کرو اور کوئی تمہاری ذاتیات کے قلب میں ہوتی تھی اب یہی بات نہیں رہی لوگوں میں اسی کی کمی ہوگئی ۔
