ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا آج کل مادی ترقی پربڑا ناز ہے مگر یہ ترقی ترقی کھلانے کے قابل نہیں ترقی کھلائے جانے کے قابل تووہ ہے کہ جوذریعہ ہو خدا کے راضی کرنے کا ایک اخبار میں دیکھا تھا کہ کسی شخص نے سو منزل کا مکان بنایا ہے کیا ٹھکانے ہے اس حماقت کا اگرکبھی گرا توتماشا ہی ہوگا کیا زمیں میں جگہ ہی نہیں رہی بلکہ زمین سے ملاصق مکان تو ان بلند عمارتوں سے زیادہ راحت بخش ہیں دیکھئے غرباء کے مکان کچے اورپست ہوتے ہیں مگر ان میں آرام بہت ہوتا ہے گرمی بھی زائد نہیں ہوتی مرمت بھی آسان اس کا چھوڑ دینا بھی آسان زلزلہ وغیرہ میں بھی خدشات سے اور امراء کے مکان دیکھنے میں یہی آیا کہ اکثر کلفت کا سبب ہوتے ہیں اور بڑی کلفت یہ ہوتی ہے کہ وہ مکلف بہت ہوتے ہین ان میں سادگی نہیں ہوتی جی تنگ ہوتا ہے کیونکہ بہت سی چیزیں فضول ہوتی ہیں اور فضول سے عقلاء ایسا بچتے تھے کہ حضرت ادہم کے گیارہ کوٹھڑیاں تھیں ایک گرگئی دوسری میں چلے گئے دوسری گری تیسری میں چلے گئے اسی طرح گیارھویں میں وفات ہوگئی قصہ ختم کبھی مرمت بھی نہیں کرائی واقعی فانی چیز کی کیا ترقی اور کیا اس سے انسان جی لگائے وہ تو چھوٹ جانے والی چیز ہے ان حضرات کے حالات کودیکھ کریوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس عالم سے تعلق ہی نہ تھا اور واقع میں تعلق کی چیز بھی نہیں حق تعالٰٰی ظاہرفرماتے ہیں اس کی حقیقت کو ۔
