ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دوسروں کی فضول فکر اور دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت دخل دینا آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے اور یہ اس راہ میں سم قاتل ہے کہ اپنے اختیارات کا تو اہتمام نہ کرے اور دوسروں کے اختیاریات میں مشغول ہو جاوے جو اس کے اعتبار سے غیر اختیاری ہے اسی کے متعلق فرماتے ہیں کار خود کن کار بے گانہ مکن
