ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو دوسروں کے معاملات میں پڑنے سے طبعی نفرت ہے اور تو کوئی کیا ہوگا بھائی اکبر علی مرحوم سے زیادہ تعلق دنیا کے اعتبار سے اور کس کے ساتھ ہو سکتا تھا اس لئے کہ حقیقی بھائی تھے مگر میں ان کے معاملات میں بھی کسی قسم کا دخیل نہیں ہوا انکی لڑکیوں کے رشتوں کے متعلق میرے پاس خطوط آتے تھے میں جواب میں لکھ دیتا تھا کہ مجھ کو ان قصوں سے کوئی تعلق نہیں اور یہ شعر لکھ دیتا تھا
ما ہیچ ندار یم غم ھیچ نداریم ، دستار نداریم غم پیچ نداریم ،
( ہمارے پاس کچھ نہیں ہے تو ہمکو کسی چیز کی فکر بھی نہیں نہ پگڑی ہے نہ اوسکو باندھنے کی فکر 12 )
