( ملفوظ 496) دوسروں کے پیچھے بالکل نہ چلنا چاہیئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ بالکل اسکا خیال نہیں کرتے کہ ہمارے کسی کام سے کسی بات سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو ایک شخص کو میں نے بالکل سیدھ میں ہو کر پیٹھ پیچھے چلنے سے منع کیا ممکن ہے کہ آگے چلنے والے کو جوتہ میں کوئی کنکر وغیرہ آ جائے اس کا نکالنے کے لئے یا اور کسی ضرورت سے رکنا پڑے اور پیچھے چلنے والا بے فکری سے چلتا رہے اور اس طرح تصادم ہو جائے اس پر ایک صاحب نے بیان کیا کہ ایک ڈپٹی صاحب آئے تھے میں انکے اوپر گرا ان کے چوٹ آئی فرمایا کہ جی ہاں ایسا ہی ہوتا ہے دو صاحب مرادآباد کے یہاں پر آئے تھے جو لوگ یہاں چارپائی بچھا کر طلبا ہوں یا ذکرین لیٹتے ہوں یہ قاعدہ ہے کہ نماز فجر سے قبل اٹھا لیجاویں ایک شخص نے نہیں اٹھائی میں نے مواخزہ کیا تو ان دو صاحبوں میں سے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا کہ بڑی سختی ہے پھر وہ یہاں سے وطن کی واپسی کے ارادہ سے گئے سہارنپور جامع مسجد میں نماز کے لئے گئے وہاں اطراف میں برآمدے بنے ہیں مغرب کے بعد کسی ضرورت سے وہاں گئے کس قدر اندہیرا ہو گیا تھا اس برآمدہ میں ایک پلنگ بچھا ہوا تھا اس میں یہ ہی معترض صاحب الجھ کر گرے تو کہنے لگے کہ لوگ بڑے نا لائق ہیں یہ کوئی وقت تھا پلنگ بچھانیکا دوسرے صاحب نے کہا کہ وہی تھانہ بھون کا واقعہ یاد کرو تب کہا کہ بالکل ٹھیک ہے اب حکمت سمجھ میں آئی جب اپنے اوپر گزری ـ