ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ دشمن کے ساتھ صبر و تحمل کرنا کمالات میں سے ہے مگر دوستوں کے ساتھ صبر و تحمل کرنا جب کہ اس سے ان کا دینی ضرر ہو عیوب میں سے ہے اس سے وہ جہل اور غلطی میں مبتلا رہیں گے اور اس غلطی میں مبتلا رہنے سے ان سے کدورت اور انقباض بھی پیدا ہوگا صورت دیکھتے ہی خیال ہوگا کہ پھر ستانے کو آئے ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ دوستوں سے کبھی تحمل نہ کرے ان کی غلطیوں پر متنبہ کر دینا ہی دوستی اور موجب بقاء تعلق ہوگا اور یہ امور علم معاملات میں سے ہیں یہ اسرار نہیں البتہ امور مکاشفہ اسرار ہیں اس لئے اگر امور معاملہ کو چھپائے تو خیانت ہے اور امور مکاشفہ کو اگر ساری عمر بھی ظاہر نہ کرے تو کوئی مضرت نہیں ان پر کسی مقصود کا مدار نہیں
