( ملفوظ 533 ) دنیا کی چیزیں شیخ چلی کا خیال ہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں بدون مجاہد اور جوتے کھائے ہوئے کچھ بننا شیخ چلی والی حکایت سے اور اس کے خیالی حساب سے کم نہیں اسی طرح تم بھی شیخ چلی کا سا گھر کا سا گھر لیجانا تھا ـ مزدور کی ضرورت تھی اتفاق سے شیخ چلی نظر پڑ گئے ان سے دریافت کیا تم مزدوری کرتے ہو یہ تیار ہو گئے اس نے کہا چلو یہ گھڑا تیل کا ہمارے گھر تک پہنچا دو ہم تم کو پیسہ دیں گے شیخ چلی نے منظور کر لیا اور سر پر گھڑا رکھ کر چلے اب راستہ میں اپنے دل میں منصوبہ گانٹھا کہ آج مزدوری کے دو پیسے ملیں گے ان سے تجارت کرنا چاہئے اور وہ اس طرح کہ ان پیسوں کے دو انڈے خریدں گے ان کو کسی راضی کر کے مرغی کے نیچے بٹھاؤں گا ان سے دو بچے نکلیں گے ایک مرغ ایک مرغی ایک مرغی گویا یہ بھی ان کے قبضہ کی بات تھی کہ نر اور مادہ ہی نکلیں گے غرض گھر کی مرغی گھر کا مرغا ہوگا ان سے بہت سے انڈے ہوں گے پھر ان سے بہت سے بچے ہوں گے ان کو بیچ کر بکریاں خریدں گے پھر بہت سی بکریاں ہو جائیں گی ان کو بیچ کر گائے خریدیں گے پھر بھینس اور بھینیسیں سے گھوڑوں کی تجارت کریں گے جب بہت سا روپیہ جمع ہو جائے گا تو ایک بڑا محل تیار کرائیں گے اور کسی امیر گھرانے کی لڑکی سے نکاح کریں گے اس سے بچہ پیدا ہوگا جب بڑا ہو جائے گا تو وہ ہم کو بلانے آئے گا کہ ابا جان اماں جان بلا رہی ہیں چلو ہم اس کو ڈانٹ دیں گے اور کہیں گے کہ ہشت ہم نہیں جائیں گے ہمیں کام سے مہلت نہیں اس ہشت کہینے پر غفلت میں سر جو ہلا اس پر سے گھڑا گر گیا اور تیل زمین پر پہنچ گیا مالک خفا ہوا کہ نالائق یہ کیا حرکت کی میرا اتنا تیل ضائع کیا تو کہتے ہیں کہ میں چلو بیٹھو تم اپنے ذرا سے تیل کے نقصان کے لئے پھرتے ہو یہاں بنا بنایا گھر ہی برباد ہو گیا میرے تقصان پر نظر نہ کی ساری تجارت ہزاروں روپیہ تمام کنبہ ہی ختم ہو گیا ـ یہ شیخ چلی کا سا خیال قیامت کے دن ظاہر ہوگا کہ نہ تجارت ہے نہ ہاتھی نہ گھوڑے نہ مرغی نہ مرغہ نہ بکریاں نہ گائے نہ بھینس نہ کیک نہ بسکٹ نہ مکھن نہ فوج نہ پلیٹیں نہ جاہ نہ عزت نہ چشم نہ خدم نہ محل نہ کوٹھی نہ بنگلے نہ بیوی نہ بچے نہ کنبہ نہ روپیہ نہ ملک غرض نہ کوئی ساز نہ سامان کچھ بھی نہیں اس کا صدقہ اس وقت کی یہ حالت ہوگی خواب تھا جو کچھ دیکھا تھا جو سنا افسانہ تھا یہاں پر بڑے بڑے دعوے ہیں کسی کو اپنی شجاعت پر کسی کو حکومت پر کسی کو اپنے حسن و جمال پر کسی کو جاہ اور عزت پر کسی کو اپنے علم پر کسی کو اپنے حسن و جمال پر کسی کو جاہ اور عزت پر کسی کو اپنے علم پر کسی کسی کو اپنے تقدس پر کسی کو زہد اور تقوے پر ناز ہے وہاں حقیقت معلوم ہوگی کہ کچھ بھی نہیں تھا کیونکہ ان خیالی منصوبون میں پڑ کر اللہ تعالی سے غافل ہو گئے اور کیوں آخرت کو بھلا دیا ارے کیا رکھا ہے ان فانی اور جدا ہونے والی چیزوں میں حق تعالی فرماتے ہیں ـ ما عندکم ینفد و ما عنداللہ باق ۔