( ملفوظ 444) دنیا کی ترقی کا انجام تنزل ہے ـ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دنیا کی ترقی بھی انجام میں تنزل ہی ہے اسی طرح دنیا کی راحت میں بھی کلفت ہی ہے خواہ اسکی خواہ دوسروں کی ایک نادار مگر خواندہ شخص ملازمت پر گئے اتفاق سے پانچسو روپیہ کے ملازم ہو گئے اپنے گھر اطلاع خط بھیجا گھر والوں نے انکے گھر پر بچوں کی تعلیم پر میانجی تھے ان کو پڑھنے کو دیا میانجی پڑھ کر رونے لگے بیوی نے کہا خیر تو ہے کیا لکھا ہے کہنے لگے تم روؤ تو بتلاؤں وہ بھی روئی اور یہ دیکھ کر بچے رونے لگے محلہ کے لوگ جمع ہو گئے پوچھا کہ کیا کہنے لگے تم بھی روؤ تو بتلاؤں واقعہ معلوم کرنے کے لئے وہ سب بھی روئے تب آپ نے کہا کہ وہ پانچ سو کے نوکر ہوگئے ہیں لوگوں نے کہا کمبخت اس میں رونے کی کیا بات کہنے لگے رونے کی بات تو ہے ہی سنو جب اتنی بڑی تنخواہ پانے لگے تو اپنے بچونکو اعلی تعلیم دلائیں گے تو سب سے اول مجھ کو نکالیں گے یہ تو میرے رونے کی بات ہے پھر بیوی بوڑھی ہے وہ نئی شادی کرینگے اس بیوی کو نکال دینگے اسکے رونے کی یہ بات ہے پھر امیرانہ سواری بھی رکھیں گے تو اصطبل وغیرہ کی ضرورت ہو گی گھر کافی نہیں محلہ والونکے گھر خرید کر گھوڑوں کے اصطبل بنادینگے محلہ خالی ہوگا محلہ والوں کے رونے کی یہ بات ہوگی خوب صحیح حساب لگایا کہ جسکی ترقی ہوتی ہے اتنوں کا تنزل ہوتا ہے ـ