فرمایا کہ ایک خط آیا ہے بڑی حسرت سے لکھا ہے کہ میرے پیٹ میں درد رہتا ہے اب ایم ۔ اے کے سخت امتحان کی کس طرح تیاری کروں فرمایا کہ ایک شخص نے ایسے امتحانوں کے متعلق خوب کہا ہے کہ :
آسان ہے حساب روز محشر ٭ مشکل ہے پر امتحاں روڈ کی
اور بالکل صحیح کہا ہے جس نے کہا ، نہ اس لئے کہ وہ اس سے زیادہ عظیم الشان ہے بلکہ اس لئے کہ وہاں تو رحیم وکریم سے سابقہ ہوگا یہاں بے رحم ڈاکوؤں سے اب یہ یچارے ناکامی کے احتمال پر پریشان ہیں ان کے دل کو کوئی چیز اطمینان دلانے والی نہیں سوائے یاس اور حسرت کے بخلاف علم دین کے کہ اس کا ہرجز ہرحال میں کار آمد ہے اس میں کسی وقت بھی طالب کو یاس اور حسرت نہیں ہوسکتی خواہ قلیل ہو یا کثیر خواہ اس کی تحصیل کے بعد دنیوی کا میابی نوکری وغیرہ ہو یا نہ ہو وجہ یہ کہ علم معاش میں تو مقصود دنیوی کامیابی ہی ہے وہ نہ ہوتو پھر حسرت ہی حسرت ہے بخلاف علم دین کے کہ وہاں مقصود آخرت کی کامیابی ہے اگر دنیوی کا میابی بھی نہ ہوتو آخرت کی کامیابی سے تو یاس نہیں اس لئے حسرت کی کوئی وجہ نہیں یہ فرق ہے علم دنیا اور علم دین میں پھر فرمایا کہ دنیوی مصیبت کے موقع کے لئے جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مراقبہ سکھایا ہے وہ یہ کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو اس پر اجر ملتا ہے گناہ معاف ہوتے ہیں درجات بلند ہوتے ہیں اس مراقبہ سے آدھی مصیبت رہ جاتی ہے بلکہ بلکل ہی جاتی رہتی ہے دیکھئے اس میں بھی دین ہی کا کام آیا ۔
