( ملفوظ 295) یورپ میں خود کشی کا بازار گرم ہونے کی وجہ :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یورپ میں بوجہ دہریت کے خود کشی کا بازار گرم ہے اسلئے کہ جب اسباب کے اعتبار سے کسی کام سے مایوس ہوتے ہیں تو بوجہ مسبب کے قائل نہ ہونے کے آگے تو کوئی چیز دل کی تھامنے والی ہے ہی نہیں ـ فرمایا کہ حقیقت میں بدون دین کے راحت نہیں ـ حتی کہ راحت کے سامان بھی راحت نہیں یہی خودکشی کرنے والے چونکہ آخرت کے قائل نہیں ـ اس لئے کچھ خبر نہیں کہ خود کشی کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ اگر دین ہوتا تو مصیبت میں بھی دیکھتے کہ شریعت میں ہر چھوٹی سے چھوٹی مصیبت پر اجر کا وعدہ ہے تو پریشان نہ ہوتے ایسی مثال ہوتی کہ اگر کسی کا ایک روپیہ کھویا جائے اور ایک شخص کہے کہ گبھراؤ مت ایک گنی دوں گا ـ تو اس وقت کچھ عجب نہیں کہ اس کھوئے جانے کو غنیمت سمجھے بلکہ یہ تمنا کرے کہ ہر روز کھویا جایا کرے کہ کئی ملا کریں ایک رئیس تھے ـ میرٹھ میں اپنے نوکر کے ایک چپت مار دیا مگر تھے رحمدل ـ اس لئے اس کے بعد اسکو ایک روپیہ دیا پھر پوچھا کہ کیا حال ہے کہا کہ حضور کی جان و مال کو دعاء کر رہا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ ایک چپت ہر روز مار دیا کریں تو تیس روپیہ مہینہ میں مل جایا کریں ـ غرض جب تکلیف عوض ملتا ہے تو اسکی تمنا ہوتی ہے ـ اسی طرح دیندار آدمی آخرت کے عوض کے اعتقاد سے مصیبت کو بھی خیر سمجھتا ہے