ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زیادہ زیب وزینت کا صدور مرد سے برا ہے یہ عورتوں ہی کے لئے اچھی معلوم ہے اور اب تو وہ زمانہ ہے کہ عورتوں نے یورپ کی تقلید میں زیور اور لباس میں مردانہ طرز اختیار کرلیا اورمردوں نے زینت میں عورتوں کا طرزاختیار کرلیا عورت اگر آدھ گھنٹہ میں سنگار سے فراغ حاصل کرسکتی ہے تو مرد صاحب فیشن کی درستی سے ایک گھنٹہ میں فراغ حاصل کر سکیں گے پھر کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں ہزاروں زنجیروں میں توجکڑے ہوئے فیشن کے دلدادہ اور آزادی کا دعوی شرم آنا چاہئے اتنی بڑی تو قید کہ سرسے پیر تک قیود ہی قیود اور دعوٰی یہ کہ آزاد ہیں ہاں اللہ رسول کے احکام سے آزادی کا اگر دعوی کریں تو بلکل صحیح ہے دوسرے خوش لباسی میں غلو کا ادنی اثریہ ہے کہ عالی مرتبہ لوگوں کی نظر میں موجب تحقیر ہوجاتی ہے ایسی فضولیات اور عبث میں وہی شخص مبتلا ہوسکتا ہے جوکمالات سے کورا ہو بس اسی سے تحقیر ہوتی ہے میں جس وقت کسی کو ایسے تکلفات میں منہمک دیکھتا ہوں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ عالی خیالات سے خالی ہے جب ہی توان ادنی باتوں کی طرف اس کا میلان ہوا مگرآج کل یہ مرض اچھے لوگوں تک میں ہوگیا ۔
