(ملفوظ 81) فیض مناسبت ہی سےحاصل ہوتا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عدم مناسبت کی حالت میں فیض نہیں ہوسکتا فیض مناسبت ہی سے ہوتا ہے موسی ٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام میں جوافتراق ہو ا۔
موسی ٰ علیہ السلام نے نعوذباللہ کون ساگناہ کیا تھا مگرافتراق کی بناء وہی عدم مناسبت تھی اس کی نظیر طبعی مسئلہ ہے کہ توافق انزالین سے حمل قرار پاتا ہے اگر یہ تو افق نہ ہو تو ا ولاد نہ ہوگی اسی طرح جب تک شیخ سے توافق مزاج نہ ہوگا جس کا نا م مناسبت ہے نفع نہیں ہوسکتا ایک شیخ تھے بیعت کرنے سے قبل مناسبت کا عجیب امتحان لیتے تھے وہ یہ کہ اس کے لیے کھانا بھیجتے اور انداز ے سے زیادہ بھیجتے اورجب کھانے کے بعد برتن واپس آتے تو یہ دیکھتے کہ روٹی سالن تناسب سے بچاہے یا نہیں اگرتناسب سے بچتا تب تو آگے بیعت کی گفتگو کرتے ورنہ صاف انکار فرمادیتے کہ ہم میں تم میں مناسبت نہیں تم میں انتظامی مادہ نہیں اس لئے کوئی نفع نہ ہوگا اور میں تو اس قدر امتحانات بھی نہیں لیتا صرف گفتگو ہی سے معلوم کرلیتا ہوں اور اس میں اس لئے توسع نہیں کرتا کہ کوئی فوج بھر کے کہیں لام باندھنا تھوڑا ہی مقصود ہے اصل چیز اصلاح ہے سوومناسبت ہی کے بعد ہوسکتی ہے اس لیے میں ایسے موقع پریہ کرتا ہوں کہ چند مصلحوں کا نام بتلادیتاہوں تاکہ جہاں اورجس سے مناسبت ہو وہان اپنی اصلاح کرالے لوگ اس کو اپنی بدفہمی کی وجہ سے ٹالنا سمجھتے ہیں یہ ٹالنا نہیں بلکہ مقصود پرلگانا اور کامیاب بنانا ہے لیکن اگرکوئی نہ سمجھے اس کامیرے پاس کیا علاج ہے ۔