(ملفوظ 304) فناء الرائی :

(ملقب بہ فنا ء الرای) ایک نووارد صاحب سے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آنا ہوا اورکس غرض ہے ۔ عرض کیا کہ فلاں مقام سے آیا ہوں اور اصلاح کی غرض سے آیا ہوں فرمایا کہ ایک دن میں اصلاح ۔ عرض کیا کہ تین دن ٹھہروں گا فرمایا کہ تین دن ہی سہی اتنی مدت میں تو جمسانی مرض مزمن بھی نہیں جاسکتا اس وقت تو آنے کی غرض ملاقات ہی رکھئے یہ بھی ایک رسم ہے کہ اصلاح کے الفاظ ضرور کہے جائیں چاہے وقت یو یا نہ ہو سو یہ وقت محض ملاقات کیلئے اس میں آپ کے لئے بھی سہولت ہوگی اور میرے لئے بھی آپ بھی عافیت سے رہیں گے اور مجھ کو بھی عافیت رہے گی یہ فرما کردریافت فرمایا کہ میرے جواب کے بعد بات صاف ہوجانا چاہے آپ اپنی رائے قائم رہیں یا نہیں مجھکو معلوم ہوجانا چاہیے عرض کیا کہ ملاقات ہی کیلئے اس وقت کوطے کرلیا ہے مگر حضرت والا اللہ اللہ کرنے کیلئے کوئی طریقہ تجویز فرمادیں فرمایا کہ یہ تواس وقت آپ نے ایسی بات کہی کہ پنچوں کا کہنا سرآنکھوں پرمگر پرنالہ اسی طرف کواترے گا دوسرے طالبانہ دوخواست نہیں کی مدعیانہ تجویز بھی خود ہی کرلیا کہ فلاں چیز کی تعلیم کردو اس کی مثال ہے کہ جیسے مریض طبیب سے کہے کہ میرے لئے خمیرہ تجویز کردیجئے طبیب کو تو حق ہے کہ وہ جوچاہے تجویز کرے مگر مریض کو حق نہیں تجویز کا اور اس وقت تو آپ کو کوئی دوخواست بھی نہ کرنا چاہئے تھی اس لئے کہ یہ وقت ملاقات کیلئے طے ہو چکا تھا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر دق کا مریض طبیب سے یہ کہے کہ میرے لئے دودھ گھی تجویز کردیجئے تو کیا اس کی یہ دوخواست بااصول ہے یا بے اصول اور ایسی درخواست تو خط سے بھی پوری ہوسکتی تھی فضول آپ نے سفر کی صعوبت گوارا کی اور کرایہ صرف کیا اگر مختصر قیام ہوتو ملاقات ہی پراکتفا کرنا چاہئے اور اگر مطول قیام ہے تو ایسی دوخواست کا مضائقہ نہیں اب اس میرے جواب سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ اس درخواست سے آگے کوئی اورچیز بھی ہے ورنہ جہل میں ابتلا رہتا اور ظاہر میں تو یہ دوخواست خیرمعلوم ہوتی تھی مگر اس کی تہ میں یہ زہر اور ضرر ہے کہ اگرمیں اس درخواست کو پورا کردیتا تو خود رائی کا مرض زیادہ قوت پکڑ جاتا اسی ہی لیے میں نے کہا تھا کہ اتنی مدت میں تو مرض جسمانی مزمن بھی نہیں جاسکتا ۔ شہ جائے کہ مرض باطنی آخراس باطنی مرض کا ظہور ہورکر رہا لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں لیکن اگر اس طرح نہ کروں تو اصلاح کس طرح ہو اگر کوئی طبیب مریض کے حالات پر مطلع ہونے کے لئے کھود کرے تو آیا وہ شفیق کہلائے گا ہمدرد اور خیر خواہ کہلائے گا یا وہمی اورسخت اور ظالم کہلائے گا جب تک مریض یہ کہتا ہے کہ میں ملاقات کو آیا ہوں اس وقت تک تو خیر ہے اور جہاں اس نے کہا کہ علاج کی غرض سے آیا ہوں سوالات شروع ہوگئے بھوک کا کیا حال ہے پیاس کیسی ہے نیند آتی ہے یا نہیں یہی قاعدہ طریق اصلاح میں ہے کہ جب تک ملاقات کا نام ہے کچھ مطالبہ نہیں اور جہاں اصلاح کا نام لیا سوالات شروع ہوگئے طالب کے بعض حالات تو وہ ہیں کہ جوسوالات پرموقوف ہیں اور بعض باتیں مصلح خود مثل طبیب کے قرائن سے معلوم لرلیتا ہے مثلا طالب میں طلب صادق ہے یا نہیں فہم اور عقل اس میں کیسے ہیں اگر طلب صادق ہے اور فہم ہے تومناسبت ہوکر کام چل جاتا ہے اورکوئی بے لطفی بھی جانبین کو پیش نہیں آتی اور اگرطالب ان اوصاف سے کورا ہے تو عدم مناسبت کی بناء پرنفع نہیں ہوتا بدفہمی کی وجہ سے گڑبڑ کرتا ہ اس سے مصلح کو تکدر ہوتا ہے اس کے تکدر سے مریض یعنی طالب کو تکدر ہوتا ہے اس لئے کام نہیں چلتا ۔ یہ طریق ہیں علاج کے مربی جس کیلئے جو اس کے حال کے مناسب سمجھتا ہے تجویز کرتا ہے اکثر جوطالب سے گڑبڑ ہوتی ہے وہ اضطرار سے یا بدفہمی سے یا قصد سے جہل سے نہیں ہوتی بلکہ اکثر بے فکری اور غفلت سے ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ مصلح کو اس پرسخت ناگواری ہوتی ہے کہ اگر یہ چاہتا اور اہتمام کرتا تو اس کا انسداد اور ازالہ اس کے اختیار میں تھا اب اس بے فکری اور غفلت کے دور کرنے کیلئے طالب کے مزاج کے موافق مربی جومناسب سمجھتا ہے تجویز کرتا اور برتاؤ کرتا ہے۔ اوریہ وہ چیزہے کہ جس میں کسی میں کسی کو بھی مداخلت کرنا جائز نہیں جیسے طبیب جسمانی کی تجویزمیں کسی کو حق مداخلت کا نہیں ہاں ایک حق ہے کہ اگروہ مصلح یا اس کی تجویز پسند نہ ہو یا اس کو برداشت نہ کرسکے تو اس کا علاج چھوڑ دے یا اس سے تعلق قطع کردے ورنہ تعلق رکھتے ہوئے اس راہ میں قدم رکھنے کے لئے پہلی شرط یہ ہے جس کو فرماتے ہیں
دورہ منزل لیلٰی کہ خطرہاست بجاں ٭ شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی
( لیلٰی کے ملنے کے راہ میں جان کو بہت سے خطرات توہیں ہی مگر اول شرط یہ ہے کہ مجنون بنو ۔ 12)
اس راہ میں بدون اپنے کو مٹائے اور فنا کئے کامیابی مشکل ہے مٹ جانے سے مراد یہ ہے کہ اپنے کو کسی کے سپرد کردے اور اپنے تمام خیالات اور راؤں کو اس کی تجویز کے سامنے فنا کردے مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں
قال رابگذار مردحال شو ٭ پیش مرد ے کا ملے پامال شو
(قال کو چھوڑ کرحال پیدا کرو ۔ اور کسی کامل کے آگے اپنے کو فنا کردو ۔ 12)
اور اگرایسا نہیں کرسکتا تو کامیابی مشکل ہے جب مربی کی ہر تبنیہ اور اس کی روک ٹوک پرتیرے دل میں کدوت پیدا ہوتی ہے تو آیا ہی کس بوتے پرتھا اور اس راہ میں قدم ہی کیوں رکھا تھا مولانا فرماتے ہیں
تو بیک زخمے گریزانی زعشق ٭ تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
چوں نداری طاقت سوزن زون ٭ پس تو ازشیرریاں کم دم بزن
دربہر زخمے تو پرکنیہ شوی ٭ پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
( تو ایک کچوکے ہی کی وجہ سے عشق سے بھا گنے لگے ۔ تومعلوم ہوا کہ تم نام ہی کے عاشق تھے جب سوئی چبھنے کی برداشت نہیں ہے ۔ توشیر کی تصوریر بدن پرگدوانے کا خیال ہی چھوڑدو ۔
اگرہرکچوکے پرتمام کو ناگواری ہوگی تو بے صیقل کے آئنیہ کیسے بنو گے ۔ 12)