(ملفوظ 58) فضول منازاعت سے نفرت :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فضول منازعت کی فرصت کس کو ہے ان کی فضولیا ت میں تو وہ پڑے جس کو فرصت ہو کون ان
قصوں میں پڑے ان جھگڑوں میں پڑا کر آدمی اپنے ضروری کاموں سے بھی رہ جاتا ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس قطع منازعت کے لیے ایک عجیب دستوارالعمل بیان فرمایا تھا کہ اگر کوئی تم سے باحق مباحثہ یا مناظرہ کرے تو اس مثل ہر عمل کرنا کہ ایک نائی سے ایک شخص نے کہا کہ میاں داڑھی کے سفید با ل چن دو اس نے طرف سے اس طرف تک داڑھی صاف کی اور سامنے رکھ کر چل دیا کہ تم خود چننے رہومجھ کو اتنی فرصت کہاں کہ ایک ایک بال چنوا اس طرح تم کرنا جب کوئی تم سے جھگڑے یا الجھے توتم سب رطب ویا بس اس کے حوالہ کرکے اپنے کام میں لگ جاؤ اور ایسانہ کرنا دلیل ہے اس کی کہ اس کوکوئی اور کام نہیں بالخصوص عشق ومعرفت سے خالی ہونے کی تویہ صاف دلیل ہے اسی کو فرماتے ہیں
چہ خوش گفت بہلول فرخندہ خوئے چوبگذشت برعارف جنگ جوئے
گر ایں مدعی دوست بشباختے بہ پیکا ر دشمن نہ پرداختے
(حضرت بہلول مبارک قدم نےکیا خوب فرمایا جبکہ ان کا گذر ایک (ظاہری ) عارف پرہوا جوجھگڑا کررہاتھا (آپ نے فرمایا کہ ) اگر سب کو دوست (حق تعالی ) کی معرفت حاصل ہوتی تو اس کو دشمن کی طرف توجہ کی فرصت ہی کب ہوتی ۔ 12)