(ملفوظ 236) فضول تحقیقات کی مثال :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فضول تحقیقات میں رکھا ہے آدمی کو عام کرنا چاہئے کام کرنے والے کبھی عبث اور فضول چیزوں کو پسند نہیں کرسکتے اور فضول تحقیق کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص کسی کے یہاں مہمان بن کرجائے اوروہ اس کی تحقیق شروع کرے کہ کھانا کہاں پکتا ہے ۔ پکانے والا کون ہے ۔ نمک مرچ گرم مصالحہ گھی آٹا کہاں سے آیا اور کون لایا اور کتنا کتنا آیا ۔ چولہے میں اپلے جلتے ہیں یا لکڑیاں اور جلتے ہیں تو کیسے دھواں کہاں جاتا ہے ارے بندہ خدا تجھے ان بکھیڑوں سے کیا غرض ہے کھانا پک کرسامنے آجاوے گا کھالینا کیوں وقت بیکار کھویا اگرکچھ بھی نہ معلوم ہو مگر کھانا ہواور برف کا پانی ہوہواکے پنکھے ہوں فرش ہواور ایک کمرے میں بٹھلا کرسب چیزیں سامنے رکھدی جائیں بس کھا کرالگ ہویا مثلا کسی نے آم کھانے کودیا اب اس کی تحقیق کرنا کہ اس آم کا کس قدر وزن ہے کتنا لمبائی ہے اس سے ملطلب ہی کیا کہا کیوں نہیں لیتا مثل مشہور ہے کہ آم کھانے سے غرض پیڑ گننے سے کیا کام ، مثلا یہ خبط نہیں تو اور کیا ہے کہ مریخ ستارے کی تحقیق میں سرگرداں ہیں اورجن کے بنائے ہوئے ہیں ان کی کچھ بھی تلاش اورفکر نہیں یہ سب غفلت آخرت کے دن کو کھٹلانے کی بدولت ہے جس کی نسبت حق تعالٰی فرماتے ہیں ۔ ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الایۃ ( اورصورتیں پھونک ماری جاویگی سوتمام آسمان اورزمیں والوں کے ہوش اڑجاویں گے ) اورفرماتے ہیں یقول الانسان یومئذ این المفرکلا لا وزرالی ربک یومئذن المستقر ( اس روز انسان کہے گا کہ اب گدہر بھاگو ہرگز نہیں کہیں پناہ کی جگہ نہیں اس دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس ٹھکانا ہے ۔12) تو فکر اور تحقیق کی چیز تویہ ہے کہ یہ واقعات ہوں گے پھران واقعات کے متعلق کوئی فضول سوالات کرنے لگے مثلا کوئی موت کی تحقیق کرے کہ کس طرح آئے گی جان کس طرح نکلے گی تواس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ارے بھائی ایک دن مروہی گے جب موت آوے گی مرجائیو جب تک زندہ ہوزندہ رہو کس قدرغضب اور ظلم کی بات ہے کہ مریخ کے سفر میں مرجانے کو ترقی اور ہمت س تعبیر کرتے ہیں اور جوخدا کے نام پرجان دے اس کو وحشیانہ حرکت بتلاتے ہیں سمجھنے کی بات ہے کہ ثمرہ اور غایت بھی ہے اس پرجان دینا وحشیانہ حرکت ہے یا مریخ ستارے کی تحقیق پر جان دینا جس کا ثمرہ نہ غایت یہ وحشیانہ حرکت ہے جوچیز کام کی تھی یعنی روحانیات اور علوم ان سے تو یہ لوگ بالکل کورے ہیں صرف مادیات میں ایک درجہ تک کامیاب ہیں کمال اس میں نہیں اور نہ کمال حاصل کرسکیں گے کہ موت آدبائیگی اور بلکل بے سرسامان آخرت میں جاپہنچیں گے یہاں ہی کرلیں جوکچھ کرنا ہے ایسے ہی لوگوں کے حق میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں : ربما یودالذین کفروا لوکانو مسلمین ذرھم یاکلوا و یتمتعو ا ویلھھم الامل فسوف یعلمون ( کافرلوگ باربار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ مسلمان ہوتے آپ ان کوان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ کھالیں اورچین اڑالیں اورخیالی منصوبے انکو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے ۔ 12) اور بفضلہ تعالٰی ان کی یہ تحقیقات اسلام کے لئے حال میں بھی مضرنہیں بلکہ اکثر میں اسلام کی تائید ہوگئی مثلا جس روز یہ لوگ مریخ ستارے میں پہنچ جائیں گے ہم کہیں گے حدیث میں جوسات زمینیں آئی ہیں ممکن ہے ان میں سے ایک زمیں یہ بھی ہوغرض ہماری نصوص کی گاڑی کہیں نہیں اٹکتی اورمثلا اگر وہاں آبادی کا مشاہدہ ہوجائے توہم اس آیت کی ومن آیاتہ خلق السموات والارض وما بث فیھما من دابۃ ( اور منجملہ اسکی نشانیوں کے پیدا کرنا ہے آسمانوں کا اور زمیں کا اور ان جانداروں کا جواس نے زمیں وآسمان میں پھیلارکھے ہیں ۔ ) کی سہل تفسیر کردیں گے جس میں فیھما اپنے متبادرمعنی پررہے گا فی مجموعہما کی ساتھ تفسیر کی ضرورت نہ رہے گی ۔