( ملفوظ 498)فضولیات سے قلب میں ظلمت پیدا ہوتی ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فضول کلام لغو کلام عبث کلام سب ایک ہی ہیں اس سے قلب میں ظلمت پیدا ہوتی ہے نورانیت فنا ہوتی ہے باطن کی استعداد برباد ہوتی ہے اس استعداد کے ضعیف ہونے کو بعض احادیث میں موت قلب کہا گیا ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ قلب میں ایک نور ہوتا ہے وہ ضعیف ہو جاتا ہے اسی فرماتے ہیں ـ
دل زپر گفتن بیمرد در بدن گرچہ گفتارش بود در عدن