ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر معاملہ میں فہم کی ضرورت ہے محض تعلیم کافی نہیں اگر یہ نہ ہو تو بڑی مشکل کا سامنا ہوتا ہے ۔ ایک شخص کا واقعہ ہے کہ میں نے اس سے کہا کہ تجھ میں بے فکری کا مرض زیادہ ہے اس لئے اکثر غلطیاں ہوتی ہیں اس کی تدبیر یہ ہے کہ جو کام کیا کرو سوچ کر کیا کرو اب سنئے ایک اسٹیشن پر پہنچے بیوی کو اور اسباب کو ریل میں سوار کرا دیا اور بھنے ہوئے چنے ایک پیسہ کے خریدنے کا ارادہ کیا ادھر تو ریل سیٹی دے رہی ہے چلنے کو تیار ہے اور آپ مراقبہ میں ہیں کہ یہ چنے ضرورت میں خرید رہا ہوں یا بلا ضرورت محض حظ نفس کے لئے ریل چھوٹ گئی اور پھر جو مصیبتیں پیش آئیں ان بزرگ کو بھی اور بیوی کو بھی ان کی داستان طویل ہے مجھ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا میں نے کہا اس کو بھی تو سوچنا چاہئے تھا کہ کہاں سوچنا چاہئے اور کہاں نہیں اور اگر سوچنا ہی ضرور تھا تو ریل میں بیٹھ کر مراقبہ کر لیا ہوتا اگر یہ معلوم ہوتا کہ ضرورت میں خریدنے ہیں تب تو کھا لیتے اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ بلا ضرورت خریدنے ہیں تو بیوی کو یا کسی غریب کو دے دیتے خود نہ کھاتے تو نفس کا علاج اس صورت میں بھی تو ہو جاتا بد فہمی سے بھی اللہ بچائے جیسے ایک نوکر نے آقا کے سامنے گھوڑے کی لید پیش کر دی تھی آقا کی کوئی چیز راستہ میں گر گئی تھی نوکر نے نہیں اٹھائی تھی آقا نے تعلیم کیا تھا کہ جو چیز راستہ میں گرے اٹھا لو اور اس پر یہ عمل ہوا کیونکہ لید بھی تو راستہ میں گری تھی تعلیم بھی جب ہی کارآمد ہوتی ہے جب خداداد فہم ہو اس وقت تعلیم معین ہو جاتی ہے ۔
