ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا جو چیزیں فطری ہیں ان میں تعلیم کی ضرورت نہیں دیکھ لیجئے بچوں کی باتیں اور ان کی حرکات کیسی پیاری معلوم ہوتی ہیں جو بات بھی ہوتی ہے بے ساختہ اور بے تکلف ہوتی ہے اس لئے کہ فطری بات ہے بناوٹ کا ذرا نام نہیں ہوتا یہ تو بڑے ہوکر بگڑتے ہیں خدا معلوم کہ کیا زہر مل جاتا ہے ایک بچہ کو میں نے چھیڑا اس نے کو سا اللہ
کرے بڑے ابا مرجائیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ تو خوش ہوگا کہ میں نے
بہت بڑی بد دعاء کی حالانکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی مسافر اپنے گھر سے نکل کر بھٹکتا پھرتا ہو اور اس کو کوئی کہے کہ خدا کرے تو اپنے
گھر چلا جایہ تیری بددعا ء ایسی ہی ہے خیر یہ تو جو کچھ بھی سہی اس وقت اس بے ساختہ یہ کہنا ایسا پیارا معلوم ہوا کہ میں بیان نہیں کرسکتا ۔
