(ملفوظ 138 )غفلت کی حد :

ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ تعجب ہے کہ اہل باطل کو تو اجازت ہے کہ وہ اہل حق سے تعصب رکھیں اوراہل حق کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ وہ مدافعت بھی کرسکیں کتنے بڑے ظلم اور اندھیر کی بات ہے اور یہ اہل باطل اپنے مسلک کی اشاعت کے لئے اس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ اگراس میں ذرا کمی ہوتوان کا زندہ رہنا دشوار ہے اس لیے کہ حق تعالیٰ کی نصرت تو ان کے ساتھ ہے نہیں محض قوت ظاہری اور سامان ظاہری پران کی مذہبی زندگی کا مدار ہے وہ بھی نہ ہوتو بس خاتمہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہل باطل ہمیشہ متفق ومشغول تدابیر رہتے ہیں اور اہل حق ہمیشہ اس خیال میں رہتے ہیں کہ اللہ کا دین ہے وہ خود حفاظت کریں گے اس لئے وہ زیادہ اہتمام نہیں کرتے اور فی نفسہ تویہ خیال نہایت صحیح اور مبارک خیال ہے مگر اس میں ایک بہت بڑی غلطی مضمر ہے جس کو میں اس وقت ظاہرکرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس خیال میں غلو ہوگیا ہے یعنی اس قدر بے پروائی ہوگئی ہے کہ وہ توکل اور استغناٰء کے درجہ سے بڑھ کرغفلت کی حد تک پہنچ گئی اور یہ استغنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص یہ دیکھ کر کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں ۔ انا نحن نزلناالذکروانا لہ لحافظون ، یعنی ہم قرآن مجید کے محافظ ہیں یہ رائے دے کہ لوگ حفظ کرنا چھوڑ دیں حالانکہ یہ حکم فرمانا کہ تم حفاظت کرو یہ بھی حق تعالٰی ہی کی توحفاظت ہے اور اس حالت میں حق تعالٰی کی حفاظت کا یہ محض اثر ہے کہ تدبیر میں زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ضروری توجہ اور معتدل سعی کافی ہے ۔