(ملفوظ 305)غیر اختیاری چیزیں مقصود فی الدین نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن چیزوں کی تکمیل کا حکم ہے وہ مامور ہیں اوراختیا ری ہیں اور جو اختیاری نہیں وہ مامور بہ نہیں نہ وہ مقصود فی الدین ہیں مگر جن چیزوں کی تکمیل کا امر ہے دعوی ان کی تکمیل کا بھی کوئی نہیں کرسکتا اور نہ ناز کرسکتا ہے کہ میرے نجات کا مدارمیرے اعمال پر ہے نجات کا مدار فضل خداوندی پرہے واقعی اپنے اعمال کی بدولت کون جنت کو پاسکتا ہے خود حضوﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لن یدخل الجنۃ احد بعملہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا والا انت یا رسول اللہ کہ یا رسول اللہ آپ بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہ ہوں گے حضورﷺ نے اپنے سرمبارک پرہاتھ فرمایا ولا انا الا ان یتغد نی اللہ برحمتہ یعنی نہ میں مگر یہ کہ اللہ تعالٰی اپنی رحمت میں چھپالے اب کس کا منہ ہے اور کس شمار میں ہے بس معلوم ہوگیا کہ ایسے خیالات ہی میں نہ بڑے اپنے کام میں لگنا چاہے اور یہ لگنا ساری عمر کے لیے ہے بس اسی میں اپنی عمر کو ختم کردے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
اندریں رہ می تراش ومی خراش ٭ تادم آخردمے فارغ مباش
( میں نے اپنے کسی نفع کے لیے مخلوق کو پیدا نہیں کیا بلکہ بندوں پربخشش اور کرم کرنے کیلئے پیدا کیا ہے ۔ 12)
وہ تو دربار ہی اورہے وہاں تو ان نقائض ہی پر سب کچھ عطا ہوگا وہ کا ملین ہی کے خریدار تھوڑا ہی ہیں وہ تو ناقصین کو بھی قبول فرمانے والے ہیں اس لئے کہ جو کچھ عطاء ہوگا وہ کا ملین ہی کے خریدار تھوڑا ہی ہیں وہ ناقصین کو بھی قبول فرمانے والے ہیں اس لیے جو کچھ عطاء ہوگا اس کے مقابلہ میں ان ہمارے اعمال کی کچھ بھی حقیقت نہ ہوگی گووہ قاعدہ سے کامل ہی ہوں جو کچھ بھی ہوگا فضل اور رحمت سے ہوگا وہاں ضابطہ کے کھوٹے کھرے کو نہ دیکھا جائے گا بلکہ طلب اور خلوص کو دیکھیں گے مولانا فرماتے ہیں
خود کہ یایدایں چنیں بازاررا ٭ کہ بیک گل می خری گلزار را
( ایسا بازار کس کو ملتا ہے جہاں ایک پھول کے بدلہ میں پورا باغ ملتا ہو ۔ 12)
اس لیے کہ مایوس نہ ہوجیسے ٹوٹے پھوٹے کی توفیق ہوکام میں لگے رہو انشاءاللہ تعالیٰ سب کچھ عطا ہورہے گا ۔