( ملفوظ 492)غیر مسلم لیڈر اور مسلمان لیڈر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر ایک مولوی صاحب آئے تھے نیک نیت آدمی ہیں مجھ سے کہنے لگے فلاں غیر مسلم قائد میں ایسی کیا بات ہے کہ ہندو سب اسکی اقتدا کرتے ہیں میں نے کہا کہ جس چیز کی وہ دعوت دے رہا ہے اس کے لوگ پہلے سے طالب ہیں یعنی دنیا تو حقیقت میں یہ اسکا اتباع یا اقتدا نہیں اپنی خواہش و غرض کا اتباع اور اقتدا ہے اور اسکا معیار یہ ہے کہ وہ اس دنیا سے منع کر کے دیکھے تو معلوم ہو جائیگا کہ پھر کون اقتدا اور اتباع کرتا ہے سمجھ گئے
بہت خوش ہوئے اور یہ کہا کہ بالکل ٹھیک ہے یہ ہی بات ہے سوچنے سے بھی سمجھ میں نہ آئی تھی پھر کہنے لگے کہ مسلمانوں میں کوئی ایسی ہستی نہیں سب مسلمان اسکی اقتدا کریں میں نے کہا کہ اس سے کیسے ثابت ہوا کہ کوئی ایسی ہستی نہیں اسکو ایک مثال سے سمجھ لیجئے جماعت میں ایک عالم فاضل موجود مگر لوگ بلا جماعت نماز پڑھ رہے ہیں اب اگر اس عالم فاضل امام سے سوال کیا جائے کہ یہ تمہارے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے تو وہ یہی کہے گا کہ مجھ کو کیا معلوم یہ تو نماز نہ پڑھنے والوں سے سوال کیا جاوے کہ میرے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے اگر مسلمانوں میں کوئی اہل نہیں تو وہ کمی کی بات تحقیق کر کے بتلائی جاوے تاکہ کوئی اسکو اپنے اندر پیدا کرے بشرطیکہ پیدا کرنے کی ہو اور اگر ایسے اہل ہیں تو پھر مسلمانوں سے پوچھئے کہ اسکی اقتدا کیوں نہیں کرتے اس پر خاموش ہو گئے