ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کیفیت کے غلبہ کے وقت بیوی بچوں سے بھی قدرے بے التفاتی ہو جاتی ہے اسپر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ غلام مرتضی صاحب مجذوب پانی پتی جنہوں نے بطور پیشین گوئی میرا نام رکھا تھا نانا صاحب سے انکی خاص بے تکلفی تھی نانا صاحب پر اسوقت غلبہ تھا ابتداء میں اکثر ایسا غلبہ ہوتا ہے تعلقات سے وحشت ہوتی ہے بیوی بچوں سے بھی قدرے بے التفاتی تھی حافظ صاحب نے اس غلبہ کیفیت کو اپنے تصرف سے سلب کر لیا نانا صاحب پر اس قدر قلق طاری ہوا حافظ کے پیچھے اینٹ لے کر دوڑے بھاگے ارے ڈاکو یہ کیا کر چلا مگر حافظ صاحب نے پیچھا پھیر کر بھی نہ دیکھا چل ہی دیئے پھر جب نانا صاحب کی وفات کا وقت آیا ہے تو حافظ صاحب اس روز پھر تشریف لے آئے اور اسوقت کیفیت کو واپس کر دیا یہ تصرف تھا حافظ صاحب کا اس وقت نانا صاحب پر بیحد مسرت کے آثار نمایا تھے اور بڑے جوش کی باتیں کرتے تھے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ موت کے وقت مناسب ہے کہ ایک دو عاقل میت کے پاس ہوں زیادہ بھیڑ کی ضرورت نہیں وہ ذکراللہ میں مشغول ہونے کا وقت ہے نہ کہ دنیوی خرافات کا اب تو یہ حالت ہے کہ بچوں کو لاکر کھڑا کیا جاتا ہے انکے واسطے کیا کر چلا بیوی آکر کہتی ہے مجھ کو کس پر چھوڑ چلا یہ وقت باتوں کا نہیں نہ معلوم اس پر کیا گزری رہی ہے تم کو اپنی پڑی ہے ایسے موقع پر ایک دو عاقل کے پاس ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اسکو ذکراللہ میں مشغول رکھیں بس ـ
