(ملفوظ 259)غامض بدعتیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شب برات کا حلوہ اگر آپ نہ کھاویں تو پکانے والے پکاویں بھی نہیں یہ بدعتیں ، ڈھیلے پن سے جاری ہوئیں مزاحا فرمایا کہ اگر دھیلے ( یعنی سخت ) بن جائیں تو سب بدعتیں ختم ہوجائیں پھرفرمایا بعض بدعتیں ایسی غامض ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ اکابر کو تنبہ نہیں ہوتا چنانچہ مولانا شیخ محمد صاحب نے حضرت حاجی حاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ دل چاہتا ہے کہ ترک حیوانات کے ساتھ ایک چلہ کھینچوں ، حضرت نے فرمایا کہ یہ توبدعت ہے تب تنبہ ہوا قصہ رامپور میں ایک تقریب تھی ختنوں کی وہاں پر مجھ کو بلایا گیا اور اپنے اورحضرت بھی تھے وہاں پہنچ کر مجھ کو معلوم ہوا کہ کہ بڑا تفاخر کا سامان کیاگیا ہے شریک نہیں ہوا اور خفیہ گھر چلا آیا اس پرایک صاحب یہاں پربزرگوں کی نصرت کے لیے مناظرہ کی نیت سے تشریف لائے وہ اب بھی زندہ ہیں اورمجھ سے کہا کہ مجھے ان رسوم کے متعلق کچھ عرض کرنا ہے میں نے کہا کہ ضرورشوق سے مگر کچھ شرائط ہیں ایک تویہ کر یہ دیکھ لیا جاوے کہ اپنے کسی معتقدفیہ کی نصرت مقصود نہیں یہ حلف سے بیان فرما کر جوشبہ فرمایئے بس سب اعتراضات ختم ہوگئے اسی سلسلہ میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ سے ایک صاحب نے دریافت کیا اسی تقریب کی شرکت اور عدم شرکت کے متعلق کہ اگریہ بات جائز تھی تو وہ کیوں نہیں شریک ہوا (مراد میں ہوں ) اور اگر ناجائز تھی تو آپ کیوں شریک ہوئے اس پرمجھ کو تومولانا نے خفیہ خط لکھا کہ اصلاح الرسوم پرنظر ثانی کی ضرورت ہے اورمجمع میں یہ جواب دیا جو میں نقل کررہاہوں کہ وہ تقوے پرعمل کرتا ہے اورہم فتوے پرعمل کرتے ہیں اس لئے بعض دفعہ ہمارا اس کا اختلاف ہوجاتا ہے میں نے مولانا خلیل الرحمن احمد صاحب رحمہ اللہ کو خط کا جواب لکھا کہ میں نظراول ثانی ثالث رابع سب کچھ کرچکا ہرنظر کا وہی نتیجہ ہے جونظر اول کا تھا ہاں اس کی اور صورت ہے وہ یہ کہ آپ نظرفرما کر اس میں غلطی نکالیں میں اس کا رد نہ کروں گا اس کوشائع کردوں گا ناظرین دونوں کو دیکھ لیں گے اب چاہے کوئی ادھرجائے یا ادھر جائے مگر جورسمیں مٹ چکی ہیں اگرآپ کی تحریرپرانہوں نے پھردوبارمدعو کیا تو اس کو آپ خود دیکھ لیں اس کے بعد حضرت مولانا نے کبھی کچھ اس کے متعلق نہیں فرمایا حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمہ اللہ سے بھی لوگوں نے پوچھا آپ نے جوواقعی بات تھی وہ فرمائی مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ کا جواب تو تواضع بیان فرمادی اور یہ جواب دیا کہ سچ یہ ہے کہ جس قدر عوام کی حالت اسے (یعنی مجھکو) معلوم ہے ہمیں معلوم نہیں اس لئے وہ ایسی چیزوں کو روکتا ہے اور کوئی شبہ نہ کرے کہ نعوذ باللہ کیا مجھ کو اپنے اکابرسے زیادہ علم ہے اس کا جواب یہ ہے کہ عوام کی حالت کا علم یہ ایک محسوسات کا علم ہے اور محسوسات کا علم کوئی کمال نہیں بلکہ احکام کا علم کمال ہے اسی معاملہ میں ایک بزرگ نے مجھ سے کہا کہ تم نے اپنی جان توبچالی اوراگرکوئی اعتراض کرے کہ تمہارے اکابر کی شرکت کیوں ہوئی اس کا کیا جواب دوگے میں نے کہا کہ مجھ کو کسی نئے جواب کی ضرورت نہیں میں وہ جواب دوں گا جوہمارے اکابر نے حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کے مولود میں شریک ہونے کے متعلق سکھلارکھا ہے وہ جواب یہ سکھلایا ہے کہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کو عوام کی حالت کی زیادہ خبرنہیں ہم کوخوب خبرہے بس میں بھی یہ ہی جواب دوں گا ،
اب اصلاح الرسوم بحمداللہ اپنی حالت پرہے اور یہ حضرات تواپنے بڑے ہیں مجھ کو توان بڑوں کے بڑوں کے ساتھ اختلاف رہا اوروہ سب خوش تھے ۔