ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ جو گنوار کہلاتے ہیں ان میں بعضے بڑے ذہین ہوتے ہیں گو اس ذہانت کو بہودگی میں صرف کرتے ہیں ایک گاؤں میں مولوی صاحب نے ایک شخص کو نماز پڑھنے کی ترغیب دی اور یہ کہا کہ اگر تو چالیس روز نماز پڑھ لے تو تو تجھ کو یہ بھینس دونگا وہ چالیس روز تک نماز پڑھتا رہے جب دن پورے ہو گئے کہا کہ لاؤ بھنیس مولوی صاحب نے کہا کہ بھائی میرا تو یہ مطلب تھا کہ جب چالیس روز نباہ کر نماز پڑھ لیگا عادی ہو جائیگا پھر نہ چھوڑیگا اور بھینس نہ دی تو کیا کہتا ہے جاؤ پھر یاروں نے بھی بے وضو ہی ٹرخائی ہے ـ ایک ایسے ہی شخص کو کسی مولوی صاحب نے روزہ رکھوایا تھا اتفاق سے اس کی بھینس مر گئی اسکے لڑکے نے گھر میں سے کھیت میں آ کر خبر دی تو کیا حرکت کی کہ رمضان شریف کا روزہ تھا بدھنا اٹھا کر پانی پی لیا اور پانی پیکر کہتا ہے کہ لے رکھ لے روزہ نعوذباللہ ـ
