( ملفوظ 220)گفتگو کا ہر جز واضح کر کے آگے چلنا چاہئے :

ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی معاملہ پر گفتگو ہو اور اسکے چند اجزا جدا جدا ہوں تو خلط ملط نہ کرنا چاہیئے اول ایک بات ہو وہ صاف ہو جائے تب دوسری بات ہو یہ ادب گفتگو کا پہلی بات نفیا یا اثباتا عدما یا وجودا جسطرح بھی طے ہو جائے پھر دوسری بات شروع کرنا چاہیئے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی تو ہر بات صاف اور بے غبار ہوتی ہے ذرا الجھن نہیں ہوتی فرمایا کہ تفصیلی تعلیم جس کی آپ قدر کرتے ہیں میری بدنامی کا سبب ہے میں طالبین کے لئے یہ چاہتا ہوں کہ انکو اپنا مقصود معلوم ہو جہل سے نجات ہو ـ حقائق منکشف ہوں مگر یہ معاملہ بھی ہر شخص کے ساتھ نہیں صرف اسی کے ساتھ ہے جو اپنے کو میرے سپرد کرتا ہے اور تعلیم چاہتا ہے اور محبت کا دعویٰ کرتا ہے میں اسکو چھوٹی سے چھوٹی بات پر تنبیہ کرتا ہوں اس لئے کہ کہ اپنے مقصود کو سمجھ لے ـ