ارشاد فرمایا کہ حدیث میں مضمون ہے : شباب اھل الجنۃ الحسن والحسین و سیدا کھول اھل الجنۃ ابوبکر و عمر :
امیں خدشہ ہو کرتا ہے کہ عمر تو مرد و امامین کی بھی کہولت کو پہنچی ہے کیونکہ حضرت حسن کا انتقال تقریبا پینتالیس برس کی عمر میں ہوا اور حضرت حسین قریبا چھپن ستاون برس کی عمر میں شہید ہوئے ـ پھر ان کو شباب کیسے فرمایا اور اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ یہاں شباب شیخوخت ( بڑھاپے ) کے مقابلہ میں ہے چونکہ امامین کی عمر سن شیخوخت تک نہیں پہنچی اس لئے ان کو شباب فرمایا تو اس کی توجیہ تو ہو جائے گی مگر یہ وجہ شیخین میں بھی مشترک ہے پھر ان کو کہول کی کیا حکمت ہے ـ سو توجیہ اسکی یہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرات شیخین وفات کے وقت کہول تھے ان کے مجموعہ وفاتین کے وقت یعنی جب حضرت عمر کی وفات ہوئی ہے ـ حضرت حسین شباب تھے پس لفظ شباب اپنے معنے پر رہے گا ـ
